خطبات محمود (جلد 26) — Page 328
$1945 328 خطبات حمود ندامت کے آنسو پیش کرنا اور کجا اس کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ کے سامنے ایمان کے پھول پیش کرنا۔اب اگر اس واقعہ سے پہلے ہم پر موت آجاتی یا یہ واقعہ ہوتا ہی نہ تو ہم خدا تعالیٰ کے سامنے ندامت کے آنسوؤں کے سوا کیا پیش کر سکتے تھے۔لیکن اب خدا تعالیٰ نے آسمان سے دوباره بارش نازل کر دی ہے اور دوبارہ ایک عظیم الشان نشان ظاہر کر دیا ہے تاکہ ہم خدا تعالیٰ کے سامنے ندامت کے آنسو ہی پیش نہ کریں بلکہ اس بارش کے مقابلہ میں اپنی نمازوں اور روزوں اور نیکیوں کی ڈالیوں سے نئے پھول پیش کر سکیں۔پس ہماری جماعت کے ہر فرد کا اگر اس میں ایمان کا ایک ذرہ بھی باقی ہے فرض ہے کہ ان حالات کو سمجھتے ہوئے وہ ارادہ کرے کہ میں اپنے اندر ایسا تغیر پیدا کروں گا کہ جس سے وہ خلاء جو خدا تعالیٰ نے پیدا کیا ہے پُر ہو جائے۔اگر ہم خدا تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے اس خلاء کو پُر نہیں کریں گے تو یہ وقت بھی گزر جائے گا۔اور اگر ہم نے اس کو کھو دیا تو یہ ہماری سخت بے وقوفی اور بد قسمتی ہو گی۔پس میں جماعت کو پھر اس طرف توجہ دلاتا ہوں اور ایسے وقت میں توجہ دلاتا ہوں جبکہ جنگ کے بعد یہ قریب ترین وقت ہے اور جنگ کے بعد یہ پہلا خطبہ ہے جس کے پڑھنے کا مجھے موقع ملا ہے۔اب تم میں سے ہر فرد کا یہ فرض ہے کہ بجائے اِس کے کہ وہ آرام کا سانس لے اپنی کمر ہمت کس لے اور سمجھ لے کہ یہ آرام کا وقت نہیں بلکہ کام کا وقت ہے۔جنرل اسلم جو بر ہما فرنٹ کے کمانڈر ہیں اُن کا یہ فقرہ کیا ہی اچھا ہے۔جب جرمنی کی جنگ ختم ہوئی تو اُن کے سٹاف کے لوگوں میں اس پر رائے زنی ہونے لگی۔تھوڑی دیر کی گفتگو کے بعد جنرل اٹھے اور کہا دوستو! جنگ ختم ہو گئی آؤ ہم جنگ کی تیاری کریں۔یہی فقرہ اس وقت ہر مخلص احمدی کو اس طرح الفاظ بدل کر کہنا چاہے جسمانی جنگ ختم ہوئی آؤ ہم روحانی جنگ کی تیاری کریں۔یاد رکھو خدا تعالیٰ کی طرف سے بارش نازل ہو چکی ہے۔اب خدا تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی ہر جھاڑی یا بوٹی کا یہ کام ہے کہ وہ اس کے مقابلہ میں عقیدت کے پھول پیش کرے۔عقیدت کے پھول پیش کرنا ہماری زبان میں ایک محاورہ ہے۔عام طور پر یہ محاورہ محض لطیفہ کے طور پر بولا جاتا ہے۔مگر ہمارے معاملہ میں تو یہ لفظاً لفظاً چسپاں ہو سکتا ہے۔پس عقیدت کے پھول