خطبات محمود (جلد 26) — Page 325
$1945 325 خطبات محمود اُسی طرح اب بھی پڑھتی رہی۔جس طرح جنگ سے پہلے روزے رکھتی تھی اسی طرح جنگ کے بعد بھی رکھتی رہی۔جو لوگ جنگ سے پہلے زکو تیں دیتے تھے ان میں سے صاحب توفیق اب بھی دیتے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ جو نیا نشان اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظاہر کیا گیا تھا اُس کے مقابل پر کونسی نئی چیز ہماری طرف سے پیش کی گئی۔زمین کو دیکھو وہ بے جان ہے لیکن وہ ہر بارش کے مقابلہ میں نئی روئیدگی پیش کرتی ہے۔وہ بے دل، بے دماغ اور بے جان چیز جو انسان کے مقابل پر کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتی سمجھتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے ہر نئے چھینٹے کے مقابل پر میں نے ایک نیا جواب پیش کرنا ہے۔اگر جنگل کی جھاڑیوں یا درختوں پر بارش ہوتی ہے تو زمین کا وہ حصہ بارش کے مقابل پر نئی ڈالیاں اور نئے پتے پیش کرتا ہے۔اگر جنگل کے گھاس پھونس پر بارش ہوتی ہے تو اس بارش کے جواب میں زمین کچھ نیا گھاس پیدا کر دیتی ہے، کچھ نئی جھاڑیاں پیدا کر دیتی ہے، کچھ نئی ٹہنیاں پیدا کر دیتی ہے۔اور اگر اس زمین میں جہاں بارش ہوتی ہے پھلدار درخت ہوں تو وہ بارش کے ان چھینٹوں کے مقابلے میں نئی خوشنمائی اور پہلے سے زیادہ حجم والے پھل پیش کر دیتے ہیں۔مگر انسان جو سب سے زیادہ عقلمند کہلاتا ہے، جو خدا تعالیٰ کے فضلوں کا سب سے زیادہ وارث ہے اور جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے انعامات دیئے ہیں وہ خدا تعالیٰ کے کسی نئے فعل کے مقابل میں کوئی نیا جواب پیش نہیں کرتا۔حالانکہ قانونِ قدرت میں ہمیں کوئی چیز ایسی نظر نہیں آتی جو ہر نئی تاثیر کے مقابلہ میں ایک نیا جواب پیش نہ کرتی ہو۔لیکن انسان جو سب سے زیادہ عظمند ہے اور جو خدا تعالیٰ کے فضلوں کا سب سے زیادہ وارث ہے وہی ہے جو ہر نئی چیز کے مقابلہ میں ایک نیا جواب پیش نہیں کرتا۔پس یہ سوال نہیں کہ ہماری جماعت نے کیا نہیں کیا؟ بلکہ سوال یہ ہے کہ ہماری جماعت نے کیا کیا؟ وہ ایک بہت بڑا موقع تھا جو جماعت نے ضائع کر دیا۔اس جنگ کے نتیجہ میں جو خلا پیدا ہوا تھا اس کو پُر کرنے کے لئے آگے آنا چاہئے تھا لیکن ہم نے اِس موقع کو کھو دیا۔جس طرح ایک شخص جب باوجود تندرست ہونے کے روزہ نہیں رکھتا تو وہ دوبارہ اس کو تاہی کے بدلہ میں روزہ نہیں رکھ سکتا اسی طرح اس جنگ کے بعد خلا کو پر نہ کرنے کی کو تاہی