خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 324

$1945 خطبات محمود 324 جائے گا۔یہ لڑائی آئی اور چلی گئی لیکن ہماری جماعت نے اُس سے وہ فائدہ نہ اٹھایا جو اٹھانا چاہیے تھا۔چاہیے تو یہ تھا کہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم اپنے فرائض کو سمجھتے اور دنیا میں ایک روحانی انقلاب پیدا کر دیتے۔لیکن ہم میں سے بہتوں نے سستی اور غفلت سے کام کیا۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں صحیح کام وہی کہلاتا ہے جسے بر وقت ادا کیا جائے اور پھر عنا عظمند وہی ہو تا ہے جو ہر تغیر کے مقابل پر اُس کے مناسب حال اثر قبول کرے۔مثلاً ایک شخص کسی کو کوئی چیز دیتا ہے تو وہ اُسے لے کر جَزَاكُمُ الله کہتا ہے۔اگر پھر وہ اسے چیز دیتا ہے تو ضروری ہے کہ وہ دوبارہ اُسے جزاکم اللہ کہے۔یہ بچوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ بار بار چیزیں تو لیتے جاتے ہیں مگر بار بار شکریہ ادا نہیں کرتے۔اگر بچے کو کوئی چیز دی جائے تو وہ جَزَا كُمُ اللہ کہتا ہے۔لیکن اگر کوئی شخص اُسے کوئی چیز دوبارہ یا سہ بارہ دے تو وہ جَزَاكُمُ اللہ نہیں کہتا۔وہ ایک بار جَزَاكُمُ الله کو ہی کافی سمجھتا ہے۔اگر اس کے ماں باپ اُس سے پوچھیں کہ تم نے جَزَاكُمُ الله کیوں نہیں کہا؟ تو وہ کہہ دیتا ہے کہ میں نے جَزَاكُمُ الله کہا تھا۔وہ پوچھتے ہیں کب؟ تو کہتا ہے پہلی بار جو کہا تھا؟ لیکن عقلمند انسان ہر نئے فعل کے مقابلہ میں ایک نیا جواب پیش کرتا ہے۔ہم خدا تعالیٰ کے قانونِ قدرت میں بھی دیکھتے ہیں کہ ہر سورج جو چڑھتا ہے اس کے مقابلہ میں زمین میں ایک نیا تغیر پیدا ہوتا ہے۔ہر ہوا کے مقابلہ میں شگوفے اور پتے ایک نیا جواب پیش کرتے ہیں۔اور ہر بارش جو برستی ہے زمین اُس کا نیا جواب پیش کرتی ہے۔یہ نہیں کہ زمین کہے کہ پچھلے سال بارش ہوئی تھی تو اس کے مقابلہ میں میں نے سبزی اُگادی تھی اس لئے اس سال نہیں اگاتی بلکہ ہر چھینٹا جو پڑتا ہے زمیں اپنے نئے نشو و نما سے اُس کا جواب دیتی ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کے ہر نئے فعل کا مومن کی طرف سے ایک نیا جواب پیش ہونا چاہیے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہماری جماعت چندہ دیتی ہے، ہماری جماعت تبلیغ کرتی ہے، ہماری جماعت نمازیں پڑھتی ہے اور ہماری جماعت روزے رکھتی ہے۔جس طرح وہ پہلی جنگ سے پہلے چندہ دیتی تھی اسی طرح جنگ کے بعد بھی چندہ دیتی رہی۔جس طرح جنگ سے پہلے تبلیغ کرتی تھی اسی طرح جنگ کے بعد بھی کرتی رہی۔جس طرح جنگ سے پہلے نمازیں پڑھتی تھی