خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 215

1945ء 215 خطبات محمود سے ہی میرے منہ سے یہ بات کہلوانی شروع کر دی تھی کہ جنگ 1945ء کے شروع میں ختم ہو جائے گی۔ مجھے افسوس ہے کہ 1942ء کا یہ خطبہ لکھنے والے نے میر اخطبہ عمدگی سے نہیں لکھا ور نہ یہ بات اور بھی زیادہ شاندار ہو جاتی۔ کیونکہ میں نے مہینہ تک بتا دیا تھا کہ 1944ء کے آخر میں یا اپریل 1945 ء یا جولائی 1945ء میں جنگ ختم ہو گی۔ مگر خطبہ نویس نے مہینوں کا حوالہ اُڑا دیا۔ اسی طرح 1942ء کے جلسہ سالانہ پر میں نے جماعت کے تمام دوستوں کے سامنے بیان کیا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں نے کھدر کی قمیص پہنی ہوئی ہے اور خواب میں میں سمجھتا ہوں کہ یہ کھدر کی قمیص پہننا کسی کا نگر سی قسم کی تحریک کے ماتحت نہیں بلکہ اقتصادی حالات کے نتیجہ میں ہے۔ اب جبکہ کپڑے کی تنگی ہوئی اور اس خواب کی تلاش کی گئی تو مجھے حیرت ہوئی کہ وہ خواب ملتا نہیں۔ آخر مولوی محمد یعقوب صاحب نے بتایا کہ 1942ء کے جلسہ سالانہ کی تقریر تو چھپی ہے مگر تقریر نویس صاحب نے در میان میں سے وہ خواب اُڑا دیا ہے۔ حالانکہ سینکڑوں ہزاروں لوگوں کو یاد ہو گا کہ میں نے یہ خواب اُس موقع پر بیان کیا تھا کہ میں نے کھدر کی قمیص پہنی ہوئی ہے۔ اور میں خواب میں سمجھتا ہوں کہ یہ کسی کا نگر سی قسم کی تحریک کے ماتحت نہیں بلکہ اقتصادی حالات کے نتیجہ میں ہے۔ اور اس کے بعد میں نے تحریک کی تھی کہ دوست اپنے گھروں میں سوت کاتنے اور کپڑے بنوانے شروع کریں۔ کیونکہ کپڑے کے متعلق دقت پیدا ہونے والی ہے۔ تقریر نویس نے اس مضمون کو تو لے لیا مگر درمیان میں سے خواب کو اُڑا دیا۔ اسی طرح مجھے خوب یاد ہے کہ میں نے 4 ستمبر 1942ء کے خطبہ جمعہ میں جو 12 ستمبر 1942ء کے ” الفضل“ میں چھپا یہی بیان کیا تھا کہ جنگ تحریک جدید کے آخری سال کے ختم ہونے پر یعنی اپریل 1945ء میں ختم ہو جائے گی مگر وہاں بھی خطبہ نویس نے اتنا ہی لکھ دیا کہ جنگ 1944 ء یا 1945ء میں ختم ہو جائے گی اور مہینہ درمیان میں سے اُڑا دیا۔ گو خطبات میں دیکھتا ہوں اور میرے دیکھنے کے بعد ہی وہ شائع ہوتے ہیں مگر چونکہ دیکھتے وقت جلدی جلدی گزرنا پڑتا ہے اس لئے میری نظر سے بھی وہ بات رہ گئی۔ حالانکہ مجھے خوب یاد ہے کہ میں نے اس خطبہ میں اپریل کا مہینہ بتایا تھا کہ اس مہینہ میں جنگ ختم ہو گی۔ اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے دہلی میں بھی ایک مجلس میں جب مجھ سے سوال کیا گیا وو