خطبات محمود (جلد 26) — Page 214
+1945 214 خطبات محمود یاد کرایا ہے کہ 1944ء کے شروع میں جب میڈیکل کالج کے غیر احمدی طلباء آپ سے ملنے کے لئے آئے تھے اُن میں سے ایک نے آپ سے یہ سوال کیا تھا کہ جنگ کب ختم ہو گی ؟ تو آپ نے تعین کر دی تھی کہ جنگ اپریل 1945ء میں ختم ہو جائے گی۔اور وہ لکھتے ہیں کہ میں نے آپکی یہ بات اُسی وقت لکھ لی تھی۔چنانچہ وہی ہوا اور جنگ ٹھیک اسی وقت پر آکر ختم ہوئی۔اپریل کی میعاد اس لحاظ سے درست ثابت ہوئی کہ کہا جاتا ہے کہ ہٹلر 28 اپریل کو مارا گیا۔اور آخری تاریخ تحریک کے لحاظ سے اس لحاظ سے یہ بات پوری ہوئی کہ قانونی طور پر جنگ 7 مئی کو ختم ہوئی اور 7 مئی ہی تحریک جدید کے چندوں کی ادائیگی کی آخری تاریخ تھی۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا عظیم الشان نشان ہے کہ وہ نہ صرف اپنے الہام کے ذریعہ رحمت کا نشان دکھاتا ہے بلکہ بعض دفعہ اپنے بندہ کے منہ سے نکلی ہوئی بات ایسے عجیب رنگ میں پوری کر دیتا ہے کہ وہ بات نہ صرف سالوں اور مہینوں کے لحاظ سے پوری ہوتی ہے بلکہ دنوں کے لحاظ سے بھی پوری ہو جاتی ہے۔جیسا کہ اس نے یہ نشان دکھایا ہے کہ نہ صرف اسی سال اور اسی مہینہ میں جنگ ختم ہوئی بلکہ عین اُسی تاریخ اور اُسی دن جنگ ختم ہوئی جو تحریک جدید کے آخری سال کا بلحاظ چندوں کی ادائیگی کے آخری دن تھا۔اور میں بارہا بیان کر چکا ہوں کہ تحریک جدید کے ساتھ اس جنگ کی وابستگی ہے۔جب تحریک جدید کا آخری سال ختم ہو گا جنگ بھی اُسی وقت ختم ہو گی۔پس یہ خدا تعالیٰ کا عظیم الشان نشان ہے کہ عین اسی تاریخ اور اسی دن جنگ ختم ہوئی۔حالانکہ ابھی ستمبر یا اکتوبر 1944ء میں مسٹر چرچل کی تقریر شائع ہوئی تھی کہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جنگ جلدی ختم ہو جائے گی لیکن میں وعدہ نہیں کرتا کہ جنگ جلدی ختم ہو جائے گی۔ہو سکتا ہے کہ جنگ 1945ء کے آخر تک چلی جائے۔پس عین سرے پر پہنچ کر بھی وہ لوگ جن کے ہاتھوں میں اس جنگ کی باگ ڈور تھی اُن کا تو یہ حال تھا کہ وہ یہ کہہ رہے تھے کہ ہم وعدہ نہیں کرتے کہ جنگ جلدی ختم ہو جائے گی۔لیکن خدا تعالیٰ نے 1942ء یہ بات اس تقریب پر کہی گئی تھی کہ بعض لوگ کہہ رہے تھے کہ دسمبر 1944ء میں برلن فتح ہو جائے گا۔