خطبات محمود (جلد 26) — Page 148
$1945 148 خطبات محمود دبا سکتا ہے مگر ہندوستان کا افسر بالعموم ایسا نہیں کر سکتا۔یہاں تو یہ حالت ہوتی ہے کہ مثلاً احرار کا جلسہ ہو رہا ہے اور ڈپٹی صاحب یا تھانیدار صاحب بیٹھے سر دھن رہے ہیں کہ کیا اچھی باتیں بیان کی جارہی ہیں۔حالانکہ انہیں حکومت کی طرف سے قیام امن کے لئے وہاں بھیجا گیا ہوتا ہے مگر وہ اس منصب کو بھول جاتا اور سمجھتا ہے کہ میرے پیر صاحب یا میرے بزرگ تقریر کر رہے ہیں۔اور ایسا افسر جس قسم کی رپورٹ افسرانِ بالا کے پیش کرے گا وہ ظاہر ہے کہ کہاں تک صحیح ہو سکتی ہے۔مگر افسرانِ بالا ایسے افسروں کی رپورٹوں کو صحیح سمجھ لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو افسر تھا اس کی رپورٹ کیونکر غلط ہو سکتی ہے۔اور وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ بے شک وہ افسر تو تھا مگر آریہ تھا یا احراری تھا۔ہندوستان کا افسر افسر کم ہوتا ہے اور آریہ زیادہ ہو تا ہے۔وہ افسر کم ہوتا ہے اور سکھ زیادہ ہوتا ہے۔وہ افسر کم ہوتا ہے اور مسلمان زیادہ ہوتا ہے۔ہاں انگریز افسر ، افسر زیادہ اور عیسائی کم ہوتا ہے۔انگریزوں کا کیریکٹر یہ ہے کہ وہ افسر زیادہ اور عیسائی کم ہوتے ہیں۔اور ہمارے سامنے تو اس کی ایک بہت ہی واضح مثال ہے۔کیپٹن ڈگلس جب اس ضلع میں تبدیل ہو کر آئے تو اُن کا اپنا بیان ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے سنا ہے اس ضلع میں ایک شخص ہے جو حضرت عیسی کی ہتک کرتا ہے اب تک کسی نے اسے پکڑا کیوں نہیں۔مگر جب خود انہی کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مقدمہ پیش ہوا تو اُن کی افسریت غالب آگئی اور عیسائیت دب گئی۔اور اب تک ہماری جماعت سے اُن کے تعلقات بہت اچھے ہیں۔ابھی چند روز ہوئے مجھے شمس صاحب کا خط آیا تھا کہ وہ انہیں ملے اور کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے فلاں شخص نے ایک کتاب لکھی ہے جس میں احمدیت کے متعلق بعض غلط باتیں درج کر دی ہیں۔آپ مجھے وہ نوٹ کرا دیں میں ان کی تردید کروں گا۔تو انگریز افسر ، افسر زیادہ اور عیسائی کم ہوتا ہے۔مگر ہندوستانی افسر، افسر کم اور آریہ زیادہ ہوتا ہے۔افسر کم اور سکھ زیادہ ہوتا ہے۔افسر کم اور مسلمان زیادہ ہوتا ہے۔ایک غیر احمدی پولیس افسر اگر مولوی عطاء اللہ صاحب بخاری کی تقریر نوٹ کرنے کے لئے آتا ہے تو یہ کہنا کہ ایک افسر نے اس تقریر کے نوٹ لئے غلط بات ہو گی۔کیونکہ نوٹ کرنے والا اُن کا ایک مرید یا عقیدت مند تھا۔اور یہ گفتگو جو ایک احمدی دوست ا