خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 149

$1945 149 خطبات محمود سے ہوئی بتاتی ہے کہ ان سے ایک سرکاری افسر گفتگو نہیں کر رہا تھا بلکہ ایک آریہ بول رہا تھا مگر مجبوری یہ ہے کہ وہ آریہ بیٹھا ہوا افسر کی کرسی پر تھا اس لئے جب وہ کوئی رپورٹ دے گا تو بالا افسر اسے غلط نہیں کہیں گے۔اور سمجھیں گے کہ یہ سرکاری افسر ہے اور اس لئے بے تعلق آدمی ہے اس کی رپورٹ کیونکر غلط ہو سکتی ہے۔پھر اس افسر کے انصاف اور دیانت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ اُس نے اس احمدی دوست سے کہا کہ اگر تمہارے مرزا کو لیکھو کہا جائے تو تم کیا محسوس کرو گے ؟ اور جب اس احمدی دوست نے کہا کہ مجھے افسوس ہے آپ بد تہذ یہی سے کام لے رہے ہیں تو اُس نے کہا کہ تم نے بھی تو کرشن کہا تھا۔اور جب اس احمدی دوست نے جواب دیا کہ میں نے تو حضرت کرشن جی کہا تھا۔تو اُس افسر نے کہا کہ اچھا میں بھی مرزا جی کہہ دیتا ہوں۔اور کیا ہمارے دوست ایسے افسروں کے سامنے پروٹیسٹ کرتے ہیں؟ ایسے افسروں کے سامنے پروٹیسٹ کا کوئی فائدہ نہیں۔بلکہ ایسے افسروں کے سامنے پروٹیسٹ جن پر کوئی اثر نہ ہو ذلت اور خواری ہے۔یہ ایسے افسروں کے سامنے تو تم منتیں بھی کرو تو بھی کوئی شنوائی نہ ہو گی۔بلکہ وہ تمہارے خلاف قدم اٹھانے کے لئے بہانے تلاش کرتے ہیں۔مثل مشہور ہے کہ ایک دریا پر بھیڑ یا پانی پی رہا تھا۔اُس سے نیچے کی طرف بکری کا ایک بچہ بھی پانی پی رہا تھا۔بھیڑیے کا دل چاہا کہ اسے کھا جائے۔اُس نے اُسے ڈانٹ کر کہا کہ تم میرے پینے کا پانی گدلا کیوں کر رہے ہو اس بکری کے بچے نے کہا کہ حضور ! آپ تو اوپر کی طرف ہیں آپ کی طرف سے پانی میری طرف آرہا ہے نہ کہ میری طرف سے آپ کی طرف جاتا ہے۔یہ سنتے ہی وہ اُس پر جھپٹا اور پنجہ مارتے ہوئے کہا کہ نالائق! آگے سے جواب دیتے ہو۔!! مومن کا طریق یہ ہے کہ وہ طاقت کو صحیح طور پر استعمال کرتا ہے اس لئے ہمارے دوستوں کو چاہیے کہ ایسے مواقع پر جلسے کرنے اور نعرے لگانے کی بجائے تبلیغ پر زور دیا کریں۔اسی راستہ سے ہمیں پہلے کامیابی ہوئی ہے اور اسی سے آئندہ ہو گی۔مجھے اس افسر کی اس میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں اور اب پھر کہہ دیتا ہوں کہ اگر آئندہ اس قسم کے کوئی مقدمات ہوں گے تو ان کا بوجھ جماعت پر نہیں ڈالا جائے گا۔