خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 46

$1945 46 خطبات محمود ایسے ایسے عظیم الشان تغیرات پیدا ہونے والے ہیں کہ ہم میں سے جو اُس وقت زندہ ہوں گے وہ دیکھیں گے کہ آج سے میں سال بعد دنیا بالکل بدلی ہوئی ہو گی۔خدا اور خدا کے فرشتے ایک طرف ہیں اور شیطان اور شیطان کے لشکر دوسری طرف ہیں اور ان کے درمیان جنگ ہو رہی ہے۔اور آج سے میں سال بعد یا اسلام کی داغ بیل ڈالی جاچکی ہو گی (انشاء اللہ ) اور یا کفر اسلام کی جڑوں کو اکھاڑ کر پھینک چکا ہو گا (العیاذ بالله ) دہریت دوڑتی ہوئی دنیا میں پھیلتی جارہی ہے اور اس کے مقابلہ میں جس طرح ربڑ کو بھینچ کر چھوڑ دیں تو وہ سمٹ جاتی ہے اسلام پیچھے ہٹ رہا ہے۔یہ درست ہے کہ اصل چیز تو آخری فیصلہ ہے اور آخری فیصلہ کے لئے لمبے عرصہ کی ضرورت ہوتی ہے۔مگر جب کسی انسان پر غرغرہ اور نزع کی حالت طاری ہو جائے اور وہ اشاروں سے باتیں کرنے پر آجائے تو پھر اس کی زندگی قابل اعتبار نہیں ہوتی۔پھر تو وہ آگے موت کی طرف ہی جاتا ہے۔پس آخری فیصلہ کو جانے دو۔اُس وقت تو تمام امیدیں ختم ہو جاتی ہیں اور تمام کوششیں بے کار ہوتی ہیں۔انسان کی کوششیں تو اسی حالت میں کارآمد ہو سکتی ہیں جب اُسے حیات کی امید ہو اور وہ یہ سمجھ کر کام کرے کہ یا تو میں زندگی حاصل کر کے رہوں گا اور یا پھر مجھ پر موت آجائے گی۔پس موت و حیات کی کشمکش میں کی ہوئی کوششیں ہی کار آمد ہو سکتی ہیں۔اور وہ یہی چند سال ہیں اور ان چند سالوں کے اندر ایسے ایسے عظیم الشان تغیرات ہونے والے ہیں کہ اگر اس عرصہ کے اندر اندر ہماری طرف سے اسلام کو دنیا پر غالب کرنے کی پوری پوری کوشش نہ کی گئی تو اس کا نتیجہ ہمارے حق میں نہایت خطرناک ہو گا اور ہم آپ اپنی موت کو بلانے والے ہوں گے۔پس اگر ہر سال ایک سو طالب علم مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوں تو بیس سال کے بعد ہمیں ایک ہزار مبلغ ملنے کی امید ہو سکتی ہے جو قلیل ترین تعداد ہے۔کیونکہ ساری دنیا میں تبلیغ کرنے کے لئے ہمیں ہزاروں مبلغوں کی ضرورت ہے۔اور پھر یہ اندازے بھی تو صرف خیالی ہیں واقع میں تو ہمارے پاس ایک سو مبلغ بھی موجود نہیں۔پچھلے سے پچھلے سال صرف تین طالب علم مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوئے تھے اور پچھلے سال سات طالب علم داخل ہوئے تھے۔ان تین تین اور سات سات لڑکوں کے داخل ہونے سے کیا بن سکتا ہے۔اور تین تین یا