خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 47

+1945 47 خطبات محمود سات سات مبلغوں کے تیار ہونے سے ہم ساری دنیا میں کیا تبلیغ کر سکتے ہیں۔اس سے تو معلوم ہو تا ہے کہ ہماری جماعت کا بیشتر حصہ تبلیغ کو گداگروں، بھک منگوں اور بھوکوں کا کام سمجھتا ہے جن کو اور کوئی کام نہ ہو۔اگر یہی شستی رہی، اگر یہی غفلت رہی، اگر یہی افکار رہے کہ دین کے کام کرنا غریبوں کا کام ہے اور امراء دین کے کاموں سے غافل رہے تو یہ چیز خدا تعالیٰ کے عذاب کو بلانے کا موجب ہو گی۔اور دنیا ختم نہیں ہو گی کہ کفار کو مارنے کی بجائے خدا تعالیٰ کے فرشتے پہلے ایسے لوگوں کو چن چن کر ماریں گے جو دین میں داخل ہوئے مگر پھر دین کی کوئی پرواہ نہ کی اور دین کی خدمت کے لئے کوئی کام نہ کیا۔آخر تم کیا سمجھتے ہو کہ دین کی خدمت کا کام کس نے کرنا ہے۔اگر تم اپنی آمدنی کا سولہواں حصہ دے کر یا دسواں حصہ دے کر یا پانچواں حصہ دے کر یہ سمجھتے ہو کہ تم نے دین کی خدمت کر لی تو یہ غلط خیال ہے۔دین کے لئے تمہیں یہ چیز بھی دینی ہو گی اور اپنی جانیں بھی دینی ہوں گی۔اور جانیں دینے کا بہترین طریق یہ ہے کہ اپنی اولادوں کو دین کی خدمت کے لئے پیش کرو۔کیا یہ خدا سے مذاق نہیں کہ تم اس کے دین میں داخل ہو کر پھر دین کی خدمت سے جی چراتے ہو اور پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے ہو۔کیا تم خدا سے مذاق کر کے اس کے عذاب سے محفوظ رہ سکتے ہو ؟ جب تم دنیا کے کسی بادشاہ سے مذاق کر کے اس کی سزا سے محفوظ نہیں رہ سکتے تو خدا تعالیٰ سے مذاق کر کے پھر تم اس کے عذاب سے کس طرح محفوظ رہ سکتے ہو۔مگر یہ کتنا مذاق ہے کہ تم خدا کے دین میں داخل ہوتے ہو اور اس کے بعد دین کی خدمت سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے ہو۔میں دیکھتا ہوں کہ تم میں سے کئی ایسے ہیں جو پہلے اپنے آپ کو وقف کرتے ہیں اور پھر بھاگ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جی !ہم نے غلط سمجھا تھا۔ہمیں پتہ نہیں تھا کہ وقف کیا ہے۔رات کو میرے پاس ایک شخص کا خط آیا جس میں اس نے لکھا ہے کہ مجھے پتہ نہیں تھا کہ وقف کرنے میں اتنی تنگی ہو گی۔میں نے اس کا غلط مفہوم سمجھا تھا میں اپنا وقف واپس لیتا ہوں۔حالانکہ وقف کرتے وقت جس فارم پر دستخط کئے جاتے ہیں اُس میں یہ سب باتیں لکھی ہوتی ہیں کہ میں ہر قسم کی تنگی اور ہر قسم کی تکلیف برداشت کروں گا اور گزارہ کے لئے جو کچھ