خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 45

$1945 45 خطبات محمود ان کے اپنے ایمان بھی کامل ہو سکیں گے۔دوسری چیز جس کے متعلق میں نے اس جلسہ پر بھی اعلان کیا تھا اور بعد میں خطبہ جمعہ میں بھی جماعت کو اس طرف توجہ دلائی تھی کہ علماء پیدا کرنے کے لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ کثرت کے ساتھ طالب علم مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوں۔اور میں نے بتایا تھا کہ یہ کام بہت اہم اور بہت لمبا ہے۔اگر ایک مڈل پاس طالب علم آج مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوتا ہے تو دس سال میں اس کی تعلیم مکمل ہو گی۔گویا اگر ہم آج درخت لگائیں تو دس سال کے بعد ہمیں پہلا پھل ملے گا۔اگر آج تین طالب علم مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوں تو اس کے معنے ہیں کہ دس سال کے بعد ہمیں تین مبلغ ملنے کی امید ہو سکتی ہے۔یہ کتناڈر نے کا مقام ہے اُس قوم کے لئے جو دس سال کے بعد تین مبلغ تیار کرے۔وہ قوم تبلیغ نہیں کرتی بلکہ شستی کر کے اپنے ہاتھوں اپنی قبر کھودتی ہے۔اگر آج دس طالب علم مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوں تو دس سال کے بعد دس مبلغوں کے تیار ہونے کی امید ہو سکتی ہے اور آج سے بیس سال بعد سو مبلغوں کے تیار ہونے کی امید ہو سکتی ہے۔مگر ہمیں تو ہزاروں مبلغوں کی ضرورت ہے۔میں سال کے بعد سو مبلغوں سے کام کس طرح ہو سکتا ہے۔ہماری تو جماعتیں ہی کئی ہزار ہیں۔ہندوستان میں آٹھ سو سے اوپر تو ہماری انجمنیں ہی ہیں۔اور ایک ایک انجمن میں کئی کئی گاؤں شامل ہیں۔بعض انجمنیں ایسی ہیں جن میں پندرہ پندرہ بیس بیس گاؤں شامل ہیں۔تو اگر ہم صرف احمدی گاؤں میں ہی مبلغ رکھیں تو ہزارہا گاؤں میں احمدی ہیں جن کے لئے ہمارے پاس ہزاروں مبلغ ہونے چاہئیں۔اور پھر اس تعداد سے بہت زیادہ علاقے ہماری تبلیغ سے باہر رہ جائیں گے جہاں کوئی احمدی نہیں۔تو یہ ہزاروں مبلغ تبھی پیدا ہو سکتے ہیں اگر ہم سو یا دو سو طالب علم ہر سال مدرسہ احمدیہ میں داخل کریں۔اگر ایک سو طالب علم ہر سال مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوں اور ان میں سے کوئی فیل نہ ہو، کوئی بیار نہ ہو، کوئی تعلیم نہ چھوڑے اور سارے کے سارے پاس ہو جائیں تو پھر دس سال کے بعد ہمیں سو مبلغ ملنے کی امید ہو سکتی ہے۔اور بیس سال کے بعد ایک ہزار مبلغوں کی امید ہو سکتی ہے۔میر ادل تو یہ قیاس کر کے بھی کانپ جاتا ہے کہ بیس سال کے بعد صرف ایک ہزار مبلغ تیار ہوں۔کیونکہ میں سال میں تو دنیا تہہ و بالا ہو جانے والی ہے۔اور