خطبات محمود (جلد 26) — Page 314
+1945 314 خطبات محمود جہاں تک سائنس کا سوال ہے میں تو سائنس جانتا نہیں اس لئے میں اس کی تفصیلات کو سمجھ نہیں سکتا لیکن یہ معلوم ہوا ہے کہ عملی طور پر جرمنی کی جنگ کے بعد اب ستائیس اٹھائیس دن ہوئے کہ امریکہ اور انگلستان کے سائنس دان اس بات میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ ایٹم کو پھاڑ کر اس سے طاقت حاصل کر سکیں۔اور انہوں نے اس سے بم بنانا شروع کر دیا ہے۔کوئی پانچ دن کی بات ہے کہ ایٹم سے حاصل کردہ طاقت کا پہلا بم جاپان کے ایک شہر ہیروشیما پر استعمال کیا گیا جو کہ ایک چھاؤنی ہے اور بندرگاہ بھی ہے جہاں جاپانی بیڑا کھڑا ہوتا ہے یا تیار کیا جاتا ا ہے۔یہ شہر کوئی سات مربع میل کا ہے۔یعنی قریباً سوا دو میل چوڑا اور تین میل لمبا ہے۔اور بوجہ اس کے کہ یہ صنعتی شہر ہے سمجھا جا سکتا ہے کہ اس کی آبادی گنجان ہو گی کیونکہ صنعتی شہروں میں بجائے پھیلاؤ کے بڑے بڑے بلا کس بنا دیئے جاتے ہیں جن میں ایک ایک بلاک میں کئی کئی سو بلکہ کئی کئی ہزار آدمی بستے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ اس شہر کی آبادی چھ سات لاکھ کے قریب ہے۔یا یوں کہنا چاہیے کہ چھ سات لاکھ کے قریب تھی۔اور جب یہ ہم جو پھینکا گیا ہے تو اس شہر کے متعلق آخری رپورٹ یہ ہے کہ ساٹھ فیصدی حصہ شہر کا یا یہ کہہ لو کہ چھ لاکھ کی آبادی میں سے پونے چار لاکھ آدمی ایک بم سے ہلاک ہو گئے۔اور شہر کی 60 فیصدی عمارتیں ایک بم سے تباہ ہو گئیں۔جاپانی لوگوں کا بیان ہے کہ اس بم کے گرنے کے بعد شدید گرمی پیدا ہوئی۔اور اس بم کے دھماکے اور نقصان کے علاوہ وہ گرمی اتنی شدید تھی کہ اُس کی شدت کے دائرہ کے اندر کوئی ذی روح چیز زندہ نہیں رہی۔کیا انسان اور کیا حیوان، کیا چرند اور کیا پرند سب کے سب جھلس کر خاک ہو گئے ہیں۔یہ ایک ایسی تباہی ہے جو جنگی نقطہ نگاہ سے خواہ تسلی کے قابل سمجھی جائے لیکن جہاں تک انسانیت کا سوال ہے اس قسم کی بمباری کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ہمیشہ سے جنگیں ہوتی چلی آئی ہیں اور ہمیشہ سے عداوتیں بھی رہی ہیں لیکن باوجود ان عداوتوں کے اور باوجود ان جنگوں کے ایک حد بندی بھی مقرر کی گئی تھی جس سے تجاوز نہیں کیا جاتا تھا۔لیکن اب کوئی حد بندی نہیں رہی۔کون کہہ سکتا ہے کہ وہ شہر جس پر اس قسم کی بمباری کی گئی ہے وہاں عور تیں اور بچے نہیں رہتے تھے۔اور کون کہہ سکتا ہے کہ لڑائی کی ذمہ داری میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔اگر جوان عورتوں کو شامل بھی سمجھا جائے تو