خطبات محمود (جلد 26) — Page 315
خطبات محمود 315 $1945 کم از کم بلوغت سے پہلے کے لڑکے اور لڑکیاں لڑائی کے کبھی بھی ذمہ دار نہیں سمجھے جاسکتے۔پس گو ہماری آواز بالکل بیکار ہو لیکن ہمارا مذ ہبی اور اخلاقی فرض ہے کہ ہم دنیا کے سامنے اعلان کر دیں کہ ہم اس قسم کی خونریزی کو جائز نہیں سمجھتے خواہ حکومتوں کو ہمارا یہ اعلان بُرا لگے یا اچھا۔ہمارے نزدیک جاپان کا قصور ہے اور ہم نے ہزار ہا آدمی اس جنگ کی بھرتی میں دیئے ہیں۔اور ہمارے نزدیک جرمنی اور اٹلی کا بھی قصور تھا اور ہماری جماعت کے سینکڑوں بلکہ ہزاروں آدمی اٹلی اور جرمنی میں جا کر لڑے اور ان میں سے کئی قید ہوئے جو اب واپس آئے ہیں۔ہم نے مال کے ساتھ بھی ، آدمیوں کے ساتھ بھی اور اخلاقی طور پر بھی غرض ہر رنگ میں اتحادیوں کو مدد دی ہے اور اگر اس جنگ کے فتح کرنے میں کوئی مطالبہ ابھی باقی ہو تو ہمیں اس سے بھی انکار نہیں ہو گا بلکہ ہم دوسروں سے بڑھ کر قربانی کرنے کے لئے تیار ہوں گے۔مگر اس کے ہر گز یہ معنے نہیں کہ ہم جنگی افسروں کے ہر فعل کو خواہ وہ انسانیت کے کتنا ہی خلاف ہو، خواہ وہ شریعت کے کتنا ہی خلاف ہو جائز قرار دیں۔اگر اس قسم کی جنگ کا راستہ کھل گیا تو وہ دنیا کے لئے نہایت ہی خطرناک ہو گا۔پہلے زمانہ کے لوگوں نے لمبے تجربہ کے بعد کچھ حد بندیاں مقرر کر دی تھیں جن کی وجہ سے جنگیں خواہ کتنی ہی خطرناک ہوتی تھیں ایک حد پر جا کر اُن کا خطرہ رُک جاتا تھا۔لیکن اب تو یہ سوال پیدا ہوناشروع ہو گیا ہے کہ جس قوم نے ہم سے جنگ کی ہے اس جنگ کے ذمہ داروں کو پھانسی کی سزادی جائے۔اس قانون نے میں سمجھتا ہوں حالات کو بہت زیادہ بھیانک صورت دے دی ہے۔یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ فتوحات کسی ایک قوم کے حق میں رہن نہیں ہو تیں کہ وہ ایک ہی قوم کے پاس رہیں۔اور اگر یہ طریق جاری کر دیا جائے کہ فاتح قوم مفتوح قوم کے لیڈروں کو اس لئے پھانسی دے دے کہ وہ اپنی قوم کی طرف سے لڑے تھے تو پھر اگر کل کو کوئی اور قوم فاتح ہوئی اور اتحادیوں میں سے کوئی قوم مفتوح ہوئی تو ان کے لئے بھی وہی چیز مقدر سمجھی جانی چاہیے جو آج مفتوح قوم کے لئے جائز قرار دی گئی تھی۔اگر انگلستان، امریکہ اور فرانس کو یہ حقوق حاصل ہوں کہ وہ مفتوح جرمنی اور مفتوح اٹلی کے لوگوں کو محض اس وجہ سے کہ انہوں نے ان کے خلاف جنگ کی پھانسی کی سزا دیں تو اس قانون کو غلط کہو یا