خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 313

+1945 313 (25) خطبات محمود ہم اٹامک (Atomic) ہم ایسے مہلک حربے استعمال کرنا جائز نہیں سمجھتے (فرموده 10 اگست 1945ء بمقام بیت الفضل ڈلہوزی) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ” یہ خبریں کئی سال سے آرہی تھیں کہ جرمنی میں اس بات کی کوشش کی جارہی ہے کہ ایٹم (Atom) یعنی وہ ذرہ جس سے مادہ بنتا ہے اور جو خوردبینی ذرہ ہوتا ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے ایسی طاقتیں رکھی ہیں کہ اگر سائنسدان اس کو توڑنے اور اس کی طاقت کو محفوظ کرنے اور اس کو استعمال کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو اس کے اندر ایسی طاقتیں ہیں کہ ایک ذرہ کے توڑنے اور اس کی طاقت کو محفوظ رکھنے سے ایک شہر کو ایک لمبے عرصہ تک بجلی مہیا کی جاسکتی ہے۔ان خبروں پر بعض لوگ ہنس دیتے تھے اور بعض لوگ تعجب کرتے تھے اور حیران ہوتے تھے کہ ایک خوردبینی ذرے میں اتنی طاقتیں کس طرح جمع ہو سکتی ہیں۔لیکن یہ خیال سائنسدانوں کے دلوں میں تقویت پکڑتا چلا گیا اور بیسیوں سائنسدانوں نے اپنی زندگیاں اس تحقیق میں لگانی شروع کر دیں۔جنگ کے دوران میں خصوصاً انگلستان، امریکہ اور جرمنی تینوں نے اپنے اپنے طور پر اس طاقت کو حاصل کرنے کی کوشش کی۔کیونکہ جنگی مفاد کے لحاظ سے یہ بات بہت اہم سمجھی جاتی تھی کہ وہ باریک ذرہ جو اپنے اندر اتنی عظیم الشان طاقتیں رکھتا ہے۔اگر اس کو بم کے طور پر استعمال کیا جا سکے تو وہ بہت کچھ اس جنگ کے سوال کو حل کر دے گا۔