خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 266

+1945 266 (21 خطبات محمود تلاوت کی: اِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللهِ كَمَثَلِ ادَم کی لطیف تفسیر (فرمودہ 6 جولائی 1945ء بمقام بیت الفضل ڈلہوزی ) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد سورۃ آل عمران کی درج ذیل آیت b إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللهِ كَمَثَلِ آدَمَ - خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فيكون - 1 " یہ آیت قرآن مجید میں سورۃ آل عمران میں عیسائیوں کے مباحثہ کے ذکر میں آتی ہے اور مختلف رنگ میں لوگوں نے اس کی تشریح کرنے کی کوشش کی ہے۔لیکن میرے نزدیک اس کے الفاظ اور اس کی عربی پر پورا غور نہ کرنے کی وجہ سے اس کے صحیح معنی نہیں سمجھ سکے۔غالباً غور تو کیا ہو گا۔لیکن غور کے باوجود اصل مضمون کی طرف نہیں گئے اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک چیز ذہن پر غالب ہوتی ہے اور وہ انسان کو الفاظ کے صحیح مضمون کی طرف جانے سے روک دیتی ہے۔اور غالباً اسی وجہ سے مفسرین کا ذہن اس طرف نہیں گیا۔اس آیت کے معنے یہ کئے جاتے ہیں کہ عیسی کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک آدم کی طرح ہے۔اللہ تعالیٰ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اسے کہا ہو جا۔اگلے الفاظ کے معنی ہلا ساختہ بغیر الفاظ کی طرف نظر کئے یہ کر دیئے جاتے ہیں۔پھر وہ ہو گیا۔حالانکہ عربی زبان میں يَكُونُ کے معنی