خطبات محمود (جلد 26) — Page 267
$1945 267 خطبات محمود ”ہو گیا“ کے نہیں ہوتے۔مضارع جب امر کے مقابلے میں آئے تو اس کے دو معنے ہوتے ہیں ہو تا ہے یا ہو جائے گا۔جب اللہ تعالیٰ نے لفظ کُن کہا یعنی ہو جا۔تو اس کے نتیجہ میں فیکون آیا ہے۔پس یکون کے یا تو یہ معنے ہیں کہ پھر خدا تعالیٰ کے حکم کے نتیجہ میں ویسا ہی ہو تا جا رہا ہے اور ہو تا جائے گا۔اور یا پھر یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کُن کہا اس لئے اب وہ امر جس کے بارہ میں ایسا کہا تھا ضرور ہو کر رہے گا۔یہی معنی ماضی اور امر کے بعد کے مضارع کے ہو سکتے ہیں اور ہوتے ہیں۔ان دونوں معنوں کے سوا عربی زبان میں اس کے اور کوئی معنے نہیں ہوتے اور نہ عقلاً ہو سکتے ہیں۔اردو زبان ہی کو لے لو اگر کوئی شخص یہ فقرہ کہے کہ میں نے زید سے کہا کہ چلا جاسو وہ چلا جائے گا۔تو اس کے معنے کبھی بھی کوئی شخص یہ کر سکتا ہے کہ وہ چلا گیا یا یہ کہے کہ میں نے زید سے کہا پڑھ سو وہ پڑھ رہا ہے۔تو اس کے کبھی بھی یہ معنے ہو سکتے ہیں کہ وہ کسی سابق زمانہ میں پڑھ چکا ہے۔مضارع حال یا استقبال کے لئے آتا ہے۔اور حال جب ماضی کے جواب میں آئے تو اس کے معنے استمرار کے ہوتے ہیں۔یعنی وہ فعل زمانہ ماضی سے شروع ہوا اور اب تک جاری ہے۔جب یہ ذکر ہو کہ زمانہ ماضی میں کسی نے حکم دیا تھا اور اس کے نتیجہ امر کے جواب میں فعل مضارع آئے تو اس فعل مضارع کو استعارہ بھی ماضی کے معنوں میں استعمال نہیں کر سکتے۔بلکہ وہ صرف حال استمرار یہ یا مستقبل کے معنے دے گا۔لیکن گزشتہ لوگ اس جگہ يَكُونُ کے معنی ماضی کے کرتے چلے آئے ہیں۔اور یہ مطلب لیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے آدم سے کہا کہ ہو جا سو وہ ہو گیا۔حالانکہ ماضی میں دیئے جانے والے آمر کے جواب میں جو مضارع آئے اس کے معنے ماضی کے کبھی نہیں کئے جاسکتے۔اگر اللہ تعالیٰ ماضی کا واقعہ بیان فرماتا تو یوں فرماتا کہ قَالَ اللهُ كُنْ فَكَانَ اللہ تعالیٰ نے کہا کہ ہو جاسو وہ ہو گیا۔مگر اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے فیکون۔پس وہ ہو جائے گا یا ہو تا چلا آرہا ہے۔اب ان معنوں کو مد نظر رکھ کر آیت کے وہ معنے کرو جو مفسرین نے کئے ہیں۔یعنی اس آیت کو آدم اور مسیح کی محض پیدائش کے متعلق سمجھو تو آیت کا یوں ترجمہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مسیح کی مثال آدم کی طرح ہے۔اسے اس نے مٹی سے پیدا کیا۔پھر اسے کہا ہو جا سو وہ ہو جائے گا یا یہ کہ ہو تا چلا آرہا ہے اور ہوتا چلا جائے گا۔ظاہر ہے کہ یہ معنے بالکل بے جوڑ ہیں۔آدم اور مسیح دونوں ہزاروں سال پہلے پیدا