خطبات محمود (جلد 26) — Page 126
$1945 126 خطبات حمود ہمارے لئے آسانیاں ہیں۔مگر خدا تعالیٰ کے ساتھ ہمارا معاہدہ نہیں کہ ہم اس کے ساتھ اپنے عہد کو توڑتے چلے جائیں اور پھر بھی یہ کام وہ ہمارے ذریعہ سے ہی کرائے۔یہ تو اس کا احسان اور اس کا فضل اور اس کی مہربانی ہے کہ اس نے ہم کو موقع دے دیا ہے۔اب ہماری شرافت ہو گی، ہماری ایمانداری ہو گی، ہماری دیانت ہو گی اور ہماری ہو شیاری ہو گی اگر ہم اس انعام سے فائدہ اٹھا کر خدا تعالیٰ کی برکتوں کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ہمیں اپنی عادات اور اپنے افعال کی نگرانی کرنا چاہیے۔ہمارا سونا ضرورت سے زیادہ نہ ہو۔ہمارا کھانا ضرورت سے زیادہ نہ ہو۔جب تک ہر چیز اس طرح ہمارے قابو میں نہ ہو اور ہمارے زائد اوقات، ہماری عقل اور ہمارا علم خدا اور اس کے دین کی خاطر صرف نہ ہو اُس وقت تک ہماری مثال اُس بر تن کی ہو گی جو ٹوٹا ہوا ہو اور جب اس میں پانی بھرا جائے تو وہ پانی دوسرے سوراخ کے رستہ نکل جائے۔پس ٹوٹا ہوا بر تن کسی کام نہیں آتا اور میلا شیشہ کوئی اپنے پاس نہیں رکھتا۔میں جب بچہ تھا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تقریر کر رہا ہوں اور میرے ہاتھ میں ایک آئینہ ہے اور میں کہتا ہوں کہ دیکھو انسان کا دل خدا کے سامنے آئینہ کی مانند ہے۔جس طرح انسان اپنا حسن آئینہ میں دیکھتا ہے اسی طرح خدا بھی اپنے حسن کو اور اپنی صفات کو انسان کے قلب میں دیکھنا چاہتا ہے۔اس لئے اگر انسان کا دل خد اتعالیٰ کی صفات کو اعلیٰ درجہ کا ظاہر کرنے والا ہو تو خدا تعالیٰ اُس کو قیمتی قرار دیتا ہے اور اسے اپنے پاس رکھتا ہے۔لیکن اگر انسان کا قلب داغدار اور میلا ہو اور شفاف نہ ہو اور اس میں سے خدا تعالیٰ کا چہرہ غلط نظر آتا ہو تو اتنا کہہ کر میں نے رویا میں اس آئینہ کو جو میرے ہاتھ میں تھا زور سے زمین پر دے مارا اور کہا کہ ایسے دل کو خدا تعالیٰ بھی اٹھا کر اسی طرح دے مارتا ہے۔تو انسان کو اور خصوصاً انبیاء کے زمانہ کے انسان کو خدا تعالیٰ نے چنا تو ہے مگر اس لئے کہ وہ خد اتعالیٰ کا چہرہ دکھائے اور اس کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی صفات کا ظہور ہو۔پس ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ رب ہو ، وہ رحمن ہو ، وہ رحیم ہو ، وہ ملِكِ يَوْمِ الدین ہو ، 2 وہ محی ہو ، وہ میت ہو وہ رزاق ہو ، وہ جبّار ہو ، وہ علیم ہو ، وہ شکور ہو ، وہ ستار ہو ، وہ غفار ہو، اور وہ رشید و حمید ہو۔غرض خدا تعالی کی ساری کی ساری صفات کو ظاہر کرنے والا ہو جن کے متعلق مشہور ہے کہ وہ ننانوے ہیں مگر ہیں اس سے و