خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 125

$1945 125 خطبات محمود کی قربانی کو دیکھتا ہوں تو میں ان کی بہادری کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔چھ سال کا عرصہ کوئی معمولی عرصہ نہیں۔چھ سال سے ان لوگوں نے نہ تو آرام کیا ہے اور نہ پیٹ بھر کر کھانا کھایا ہے۔رات اور دن لڑتے رہے ہیں۔بعض دن تو ایسے آئے ہیں اور روسیوں نے بھی ان کی بہادری کو تسلیم کیا ہے کہ سٹالن گراڈ سے ہٹتے وقت لاکھوں کی جرمن فوج متواتر سات دن تک لڑتی رہی اور اس نے آرام نہیں کیا۔سارا دن لڑتے اور رات کو پیچھے ہٹتے۔ساتویں دن جا کر اس فوج کو آرام کرنے کا مو کا موقع ملا۔اور وہ جگہ اتنی تنگ تھی کہ سپاہیوں نے کھڑے کھڑے ایک دوسرے سے ٹیک لگا کر آرام کیا۔یہ کتنی ہمت اور کتنی بہادری ہے۔لیکن یہ ہمت ہمارے آدمیوں میں ابھی کہاں ہے۔حالانکہ اگر ہم نے ان سب کا مقابلہ کرنا ہے تو ہماری جماعت کے لئے ضروری ہے کہ ہم اس زمانے کے حالات کو دیکھیں اور سمجھیں کہ کفر کی بوٹیوں نے اس پانی سے کتنا فائدہ اٹھایا ہے۔کیا یہ شرم کا مقام نہیں کہ ایمان کے درخت تو اس پانی سے فائدہ نہ اٹھائیں حالانکہ یہ پانی ان کے لئے اتارا گیا تھا۔مگر کفر کی بوٹیاں اس سے فائدہ اٹھائیں۔جب باغ کو پانی دیا جاتا ہے تو اس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ باغ کے درختوں کو سیراب کیا جائے لیکن یہ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ اس پانی سے باغ کے کناروں کا گھاس تو اگ آئے اور اس میں روئیدگی پیدا ہو جائے لیکن باغ کا درخت سوکھ جائے۔حالانکہ وہ پانی کنارے کے گھاس کو نہیں دیا گیا تھا بلکہ ان درختوں کو دیا گیا تھا جو اس باغ کے درمیان میں ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے یہ روحانی بارش اس لئے بھیجی ہے کہ مومن اپنے ایمان کو مضبوط کریں۔اور اپنے اندر تر و تازگی اور جوش اور نئی زندگی پیدا کریں۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جن کے لئے یہ پانی نہیں اتارا گیا وہ گھاس پھونس تو اس پانی سے فائدہ اٹھا کر سر سبز و شاداب ہو رہا ہے لیکن باغ کے وہ درخت جن کے لئے یہ پانی اتارا گیا تھاوہ ابھی اس بات کے محتاج ہیں کہ ان کے اندر بیداری اور ہوشیاری پیدا کی جائے۔پس میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ وقت کو پہچاننے اور ضرورتِ زمانہ کو سمجھنے کی کوشش کرے۔اللہ تعالیٰ ایک نئی دنیا پیدا کرنا چاہتا ہے اور اس کام کے لئے پہلا موقع اُس نے ہم کو دیا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پہلے ہونے کی وجہ سے