خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 634 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 634

$1944 634 خطبات محمود دوستوں کو جنہیں اس ثواب میں شامل ہونے کا موقع نہیں ملا سخت تکلیف ہو رہی ہے اور اُن کے لیے یہ امر انتہائی کرب اور دُکھ کا موجب ہوا ہے۔جس دوست نے یہ لکھا ہے کہ بعض حصے بلا طلب کرنے کے بعض کو زائد طور پر دے دیے گئے ہیں جیسے لجنہ اماء اللہ ہے کہ اُسے بجائے ایک حصہ کے دو حصے دے دیے گئے ہیں میں نے اُس دوست کے اس سوال پر غور کیا ہے اور مجھے اُس کی یہ بات معقول معلوم ہوئی ہے۔یعنی جہاں تک مطالبہ کرنے والوں کا سوال ہے اُسے نظر انداز کر کے بھی بعض جماعتوں کو اُن کے حق سے زائد حصہ دے دیا گیا ہے۔مثلاً لجنہ اماء اللہ کو پہلے ایک حصہ دیا گیا تھا اور اس کی وجہ جیسا کہ میں نے بیان بھی کی تھی یہ تھی کہ عورتیں ایک بے زبان گروہ ہیں جو ابھی پورے طور پر منتظم نہیں ہوئیں اور اُن کے لیے اکٹھا ہونے اور باقاعدہ طور پر اس تحریک میں اپنی شمولیت کا اعلان کرنے میں بہت سی مشکلات پیش آسکتی تھیں۔اس لیے میں نے اُن کو ایک ترجمہ قرآن کے خرچ کا حق اپنے طور پر دے دیا تھا۔لیکن بعد میں ان کو جو دوسر ا حصہ دیا گیا وہ یقیناً ایک زائد چیز ہے۔اسی طرح قادیان والوں کا ایک حصہ تو اُن کا حق کہلا سکتا ہے لیکن دوسرا حصہ جو اُن کو دیا گیا وہ اُن کا حق نہیں کہلا سکتا بلکہ یہی کہنا پڑتا ہے کہ ایک جگہ اور ایک مقام میں رہنے والوں کو بجائے ایک کے دو حصے دے دیے گئے ہیں۔پس اس حصہ کے متعلق بھی جو اعتراض دوستوں کی طرف سے کیا گیا ہے وہ ایک حد تک وزنی ہے اور میرے نزدیک وہ اس سوال کے اٹھانے میں حق بجانب ہیں کہ جب وہ اس بوجھ کو اٹھانے کے لیے تیار ہیں تو پھر جن کو زائد از حق ملا ہے ان سے وہ حصہ انہیں واپس دلایا جائے۔ہماری جماعت کے وہ چندہ دہندگان جو براہ راست اپنا چندہ مرکز میں بھجوایا کرتے ہیں اور جنہوں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ ہمیں اس تحریک میں شامل ہونے کا موقع نہیں ملا اُن کا اعتراض بھی ایک حد تک وزنی ہے۔گو میں نے ایسے تمام دوستوں کو ریز رو کے طور پر رکھا ہوا تھا اور میر انشاء یہ تھا کہ اگر چندہ میں کمی رہی یا بعض اضلاع اپنی ذمہ داری کو پوری طرح ادا کرنے سے قاصر رہے تو ایسے دوستوں کو اس ثواب میں شامل ہونے کا موقع دے دیا جائے گا۔مگر جو لوگ ریزرو کے طور پر علیحد و ر کھے گئے ہوں ضروری نہیں ہوتا کہ اُن تک حصہ پہنچے۔