خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 635 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 635

خطبات محج محمود 635 $1944 اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کسی کو کہا جائے کہ بچا ہوا کھانا ہم تمہیں دیں گے۔جب کسی کو یہ کہا جائے تو ضروری نہیں ہو تا کہ اُسے کھانا ملے بلکہ اُس کو کھاناملنا اس شرط کے ساتھ مشروط ہوتا ہے کہ ضرورت سے زائد اگر کچھ بچاتو دیا جائے گا ورنہ نہیں۔اسی طرح ضروری نہیں تھا تے کہ ریزرو میں جن اضلاع یا جن افرادِ جماعت کو رکھا گیا تھا اُن کو اس تحریک میں شامل ہونے کا ضرور موقع ملتا۔بالکل ممکن تھا کہ یہ تحریک دوسرے دوستوں کے ذریعہ ہی پوری ہو جاتی۔اسی من وجہ سے اُن کے دلوں میں یہ اعتراض پیدا ہوا ہے اور میں سمجھتا ہوں اُن کا یہ اعتراض درست ہے۔جیسے میں نے بتایا ہے کہ ہماری جماعت کے وہ دوست جو فوج میں ملازم ہیں اُن کی طرف سے یہ سوال پیش ہوا ہے کہ ہم ایک ایسے مقام پر ہیں جہاں ہماری جان جانے کا ہر وقت خطرہ ہے اور ہم اس مقام پر محض آپ کے ارشاد اور آپ کے حکم کی تعمیل میں آئے ہیں۔آپ نے ہمیں کہا کہ ہم جنگ میں بھرتی ہوں اور آپ نے ہمیں کہا کہ اس جنگ میں شامل ہونا ہے انصاف کے قیام اور اسلام کی ترقی کے لیے نمید ہے۔آپ کے اس حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ہم میں جنگ میں شامل ہوئے اور اب ہر وقت اپنی جان کو قربان کرنے کے لیے ہم تیار کھڑے ہیں۔مگر ہمارا اس تحریک میں کوئی حصہ نہیں رکھا گیا۔جب ہم آپ کے حکم سے فوج میں بھرتی ہے ہوئے ہیں اور مرکز سے ڈور چلے گئے ہیں تو قرآن کریم کے ترجمہ میں حصہ لینے سے اس لیے ہے محروم رہ جانا کہ ہم دُور ہیں اور ہم تک فوراً آواز نہیں پہنچ سکتی درست نہیں۔ان کی یہ بات بھی میرے نزدیک بہت معقول ہے اور اس قابل ہے کہ اس کی طرف توجہ کی جائے۔اسی طرح پنجاب کے بہت سے اضلاع ایسے ہیں جنہیں اس تحریک میں شامل نہیں کیا گیا۔مجھے اُن اضلاع کی طرف سے ابھی تک اجتماعی رنگ میں کوئی خطوط موصول نہیں ہوئے۔میرے پاس یا تو ان افراد کی طرف سے مخطوط آئے ہیں جنہوں نے ایک ایک ترجمہ کا پورا خرچ میں چندہ کے طور پر پیش کیا تھا مگر اُن کا وعدہ اس لیے قبول نہ کیا گیا کہ اس وقت تک بعض اور دوست مطلوبہ رقم کو پورا کر چکے تھے یا جو اس طرح حصہ لینا چاہتے تھے مگر اطلاع دینے سے پہلے ہی حصے ختم ہو گئے۔یا اُن لوگوں کی طرف سے خطوط آئے ہیں جو سپاہی وغیرہ ہیں اور