خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 633 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 633

$1944 633 خطبات محمود بھی اٹھایا ہے کہ جو تراجم آپ نے جماعت پر تقسیم کیے ہیں اُن میں سے بعض ایسے ہیں جو اُن لوگوں نے خود نہیں مانگے جن کے سپرد اُس ترجمہ کے اخراجات کا مہیا کرنا کیا گیا ہے مثلاً لجنہ اماء اللہ کے سپر د جو دو تراجم کیے گئے ہیں وہ دونوں ایسے ہیں جو لجنہ نے خود نہیں مانگے۔اسی طرح قادیان کے رہنے والوں کو جن تراجم کا حق دیا گیا ہے ان میں سے ایک ایسا ہے جس کا انہوں نے خود مطالبہ نہیں کیا۔اس طرح تین تراجم ایسے ہیں یا اگر ایک کو اس وجہ سے الگ ہے کر دیا جائے کہ عورتیں بھی اس تحریک میں شامل ہونے کا حق رکھتی ہیں تو دو تراجم ایسے ہیں جو بجائے اُن لوگوں کو ملنے کے جنہیں زائد طور پر یہ حصہ دے دیا گیا ہے اُن دوسرے لوگوں کو ملنے چاہیں جن کا حق مارا گیا ہے۔اور جو اگر پورے ترجمہ کے خرچ میں حصہ نہیں لے سکے تو وہ اپنی طاقت اور توفیق کے مطابق اس تحریک میں شامل ہو کر ثواب حاصل کرنے کی انتہائی آرزور رکھتے ہیں۔بعض لوگوں نے اپنے خطوط میں یہ بھی لکھا ہے کہ ہم تو پورے ترجمہ کا حصہ لینا چاہتے تھے لیکن پیشتر اس کے کہ ہم رقم کا انتظام کر سکتے یہ اعلان ہو گیا کہ تمام حصے ختم ہوتے گئے ہیں۔اسی طرح وہ لوگ جو انفرادی طور پر اس تحریک میں حصہ لینا چاہتے تھے اُنہوں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ آپ کی طرف سے جو تقسیم کی گئی ہے اس میں ہمارا کوئی حصہ نہیں رکھا ہے گیا۔مثلاً ہماری جماعت کے وہ دوست جو فوج میں بھرتی ہو کر گئے ہیں اُن میں سے بعض کے مجھے مخطوط آئے ہیں کہ ہمیں کسی گروہ میں بھی شامل نہیں کیا گیا حالانکہ ہم بھی اس تحریک میں میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔اسی طرح بعض اضلاع ایسے ہیں جن کو ریزرو کے طور پر رکھا گیا تھا ممکن ہے اُن کے دلوں میں بھی اس تقسیم کے متعلق کوئی اعتراض پیدا ہو۔انہی اعتراضات میں میں سے ایک اعتراض اُن افراد کی طرف سے بھی آیا ہے جو براہِ راست مرکز میں اپنا چندہ بھجوایا کرتے ہیں کہ اس تحریک میں بڑی بڑی جماعتیں تو شامل کر لی گئی ہیں لیکن وہ افراد جو براہ راست اپنا چندہ قادیان بھیجا کرتے تھے رہ گئے ہیں اور اُن کو اس تحریک میں شمولیت کا کوئی حق نہیں دیا گیا۔غرض مختلف جماعتوں اور مختلف افراد کی طرف سے اس بارہ میں مجھے خطوط پانچ رہے ہیں۔اور بعض مخطوط میں تو اس قسم کے اضطراب کا اظہار کیا گیا ہے اور اس قدر قلق اور گھبراہٹ کا ان خطوط سے پتہ چلتا ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے ہماری جماعت کے ان -