خطبات محمود (جلد 25) — Page 389
خطبات محمود 389 $1944 وہاں جس شخص کو مقامی ایجنٹ بنایا جائے وہ یہی کہتا ہے کہ اختیارات میرے ہاتھ میں نہیں پھر کام کس طرح ٹھیک طور پر چل سکتا ہے۔اور اُس کی مراد اس سے یہ ہوتی ہے کہ مرکز نے جو اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھے ہوئے ہیں وہ بھی جب تک ایجنٹ کے ہاتھ میں نہ دے دیے جائیں کام ٹھیک طرح نہیں چل سکتا۔اور منیجر (MANAGER) یہ کہتے ہیں کہ جب تک اختیارات ایجنٹ کے ہاتھ میں ہیں کام ٹھیک نہیں ہو سکتا اختیارات ہمارے ہاتھ میں ہونے چانمیں۔مینجروں کے بعد منشی ہوتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اختیارات تو منیجروں کے ہاتھ میں ہیں کام کیسے چلے۔تمام خرابی اسی لیے ہے کہ اختیارات منیجروں کے سپر دہیں۔اور ہاری کہتے ہیں کہ ہمیں آزادی کے ساتھ کام کرنے دیں پھر دیکھیں کیسا اچھا کام ہوتا ہے۔اور اصل بات یہ ہے کہ سب کے دماغ پریشان ہیں۔نہ ایجنٹ کا دماغ ٹھیک ہے نہ منیجر کا، نہ منشی کا ٹھیک ہے اور نہ ہاری کا۔ہندوستان میں یہ عام مرض ہے کہ جو بھی کسی کام پر مقرر کیا جائے وہ کہتا ہے کہ سارے اختیارات مجھے مل جائیں تب کام ٹھیک طور پر چل سکتا ہے ورنہ نہیں۔حالانکہ نظام کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اختیارات تقسیم ہو جائیں۔مگر ہر شخص چاہتا یہ ہے کہ تمام اختیارات اُس کے ہاتھ میں ہوں۔پھر اس کے الٹ ایک اور بات بھی ہے۔جس طرح ہر ماتحت کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ تمام اختیارات مجھے مل جائیں اسی طرح ہر افسر یہ کوشش کرتا ہے کہ تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھے۔جس طرح ہر ماتحت اپنے اوپر والے کے اختیارات چھینا چاہتا ہے ہے اسی طرح ہر اوپر والے کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ سب اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھے۔میں نے دیکھا ہے کہ ایک عرصہ تک اصلاح کی صورت رہنے کے بعد پھر یہ مرض لسلہ کے بعض کارکنوں میں پیدا ہونے لگا ہے۔آج سے 15، 20 سال پہلے ایسی خرابی پیدا ہوئی تھی مگر وہ دبانے سے دب گئی۔لیکن اب پھر کچھ نوجوان ایسے ہیں جو حکم نہیں مانتے اور ہے سرکشی کرتے ہیں۔جس طرح جب کسی جانور کو چھیڑا جائے تو وہ دولتی مارتا ہے اسی طرح ان کی حالت ہے۔جب انہیں کوئی حکم دیا جائے تو وہ دولتی مارنے اور کاٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کا کلام غیر شریفانہ اور ناشائشتہ ہوتا ہے۔انہیں میں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنی اصلاح کریں اور اطاعت و فرمانبرداری کی عادت ڈالیں۔اور میں افسروں کو بھی نصیحت کرتا ہوں