خطبات محمود (جلد 25) — Page 388
$1944 388 خطبات محمود كه مَنْ أَطَاعَ أَمِيرِى فَقَدْ أَطَاعَنِي وَمَنْ عَلى أَمِيرِى فَقَدْ عَصَانِي 1 یعنی جو میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کرتا ہے وہ گویا میری اطاعت کرتا ہے اور جو میرے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی کرتا ہے وہ میری نافرمانی کرتا ہے۔مگر انسانی کمزوریوں میں جہاں اور نقائص ہوتے ہیں مثلاً جھوٹ، غیبت، شستی، کسل وغیرہ یا طنز و طعن کی بات کرنا وہاں بعض لوگوں میں یہ نقص بھی ہوتا ہے کہ وہ اطاعت سے گریز کرتے ہیں اور جب بھی انہیں کوئی حکم ہے ایسا دیا جاتا ہے جو اُن کی پسند کے خلاف ہوتا ہے تو وہ مقابلہ کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں۔اس قسم کے لوگوں سے قوم کو کلی طور پر پاک کر نا تونا ممکن ہوتا ہے مگر اس کی برداشت کر لینا بھی ہے ناممکن ہے۔بے شک ایک انسان کی عادت ہی ایسی ہو سکتی ہے اور وہ اپنی فطرت کے لحاظ سے ایسا کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ افسر کے احکام کو نہ مانے اور جب وہ کوئی حکم دے تو اس پر حملہ کرنے اور کاٹنے کی کوشش کرتا ہے۔مگر جہاں وہ اپنی فطرت کے لحاظ سے مجبور ہے وہاں سلسلہ بھی مجبور ہے کہ اگر ایسا انسان اپنی اصلاح نہ کرے تو اُسے جماعتی کاموں سے علیحدہ کر دیا جائے۔لوگ کہتے ہیں کہ فلاں آدمی کی طبیعت ہی ایسی ہے اور وہ مجبور ہے مگر جماعت بھی مجبور ہے کہ اگر وہ اپنی طبیعت کی اصلاح نہ کرے تو اُسے جماعتی کاموں سے علیحدہ کر دے۔عدم اطاعت کی کئی وجوہ ہوتی ہیں۔ایسا شخص کبھی تو ایسے خاندان سے تعلق رکھنے والا ہوتا ہے کہ جس کی لوگ عزت کرتے ہیں اور اس وجہ سے اُس کا دماغ خراب ہو چکا ہوتا ہے اور وہ سمجھتا ہے ہے کسی کو مجھے حکم دینے کا حق نہیں۔کبھی اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ کسی بیماری کے نتیجہ میں ہے اس کی طبیعت میں چڑچڑا پن پیدا ہو چکا ہوتا ہے۔کبھی اُس کے اندر غرور اور کبر کا مادہ ہوتا ہے ہ سمجھتا ہے کہ میں اتنا بڑا عالم اور عظمند انسان ہوں کہ کسی کو مجھے کوئی حکم دینے کا حق ہی نہیں۔پھر بعض لوگ ایسی دماغی پریشانی میں مبتلا ہوتے ہیں کہ جو کام بھی ان کے سپرد کیا جائے میں ہ کہتے ہیں کہ جب تک اس کام کی باگ ڈور کلیہ میرے ہاتھ میں نہ دی جائے اور تمام اختیارات مجھے حاصل نہ ہوں کام ٹھیک طرح چل ہی نہیں سکتا۔ہندوستان کے لوگوں میں بالخصوص یہ خرابی پائی جاتی ہے کہ جو کام بھی اُن کے سپرد ہو وہ چاہتے ہیں کہ تمام کے تمام اختیارات اُن کے ہاتھ میں ہوں۔سندھ کی زمینوں کے بارہ میں میں نے اس کا خوب تجربہ کیا ہے۔