خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 390 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 390

$1944 390 خطبات محمود کہ وہ بھی سیدھا راستہ اختیار کیا کریں۔وہ صاف کہہ دیں کہ مجھے یہ حکم دینے کا اختیار ہے اور میں یہ حکم دیتا ہوں۔اگر مانتے ہو تو مانو ورنہ انکار کر دو اور پھر ایسے موقع پر بزدلی نہ دکھانی چاہیے اور ایسے لوگوں کے متعلق فوزا فیصلہ کر دینا چاہیے۔مخط و کتابت پر وقت ضائع کرنے کی بینی ضرورت نہیں۔کیونکہ وہ جواب دہ ہیں اپنے افسروں کے سامنے، اپنے ماتحتوں کے سامنے نہیں۔صدر انجمن احمد یہ میرے سامنے ذمہ دار ہے، ناظر صدر انجمن احمدیہ کے سامنے ذمہ دار ہیں، ان کے ماتحت مجالس یا افسر اُن کے سامنے ذمہ دار ہیں اپنے ماتحتوں کے سامنے نہیں۔پس ایسی صورت میں کسی افسر کو خط و کتابت پر وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں۔وہ صاف کہہ دے کہ یہ میرا اختیار ہے اور میں یہ حکم دیتا ہوں اور اس کی تعمیل ضروری ہے۔ہاں یہ درست ہے کہ وہ ماتحت اُس حکم کے خلاف اپیل کر سکتا ہے۔مگر ھم ملتے وقت اس کا ہے فرض ہے کہ اس حکم کی تعمیل کرے۔اس کے بعد اگر وہ سمجھتا ہے کہ اس حکم کا دینا افسر کے ہے اختیار میں نہ تھا تو وہ اس کی اپیل کر سکتا ہے۔لیکن اگر کوئی انکار کرتا ہے تو فورا اس کے متعلق فیصلہ کیا جائے لٹکانے کی ضرورت نہیں۔یہ بھی بزدلی کی بات ہوتی ہے کہ ماتحت کی بات سن کر فیصلہ نہ کیا جائے اور بحث اور دلائل میں پڑا جائے۔اس کے بعد وہ کارکن یا تو حکم کی تعمیل کرے گا اور کام کرے گا یا پھر کام چھوڑ دے گا۔یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ حکم مان لے مگر افسروں کے پاس اپیل کرے۔اگر اپیل کا فیصلہ اس کے حق میں ہو تو پھر افسر کا فرض ہے کہ وہ اپنی اصلاح کرے۔اِس سال تعلیم الاسلام ہائی سکول کا نتیجہ بہت خراب نکلا ہے۔سال بھر میرے پاس ایسی شکایات آتی رہی ہیں کہ اساتذہ آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں اور ہیڈ ماسٹر سے تعاون نہیں کرتے اور یہی وجہ ہے کہ نتیجہ سخت خراب نکلا ہے۔استاد اپنی تنخواہیں بھی لیتے رہے ہیں، اپنے عہدوں پر بھی قابض رہے ہیں مگر کام دیانتداری سے نہیں کرتے رہے اور انہوں نے نوجوانوں کی عمریں خراب کر دی ہیں۔وہ اس بات پر بہت خوشی کا اظہار کرتے ہیں کہ سکول کی بلڈنگ نہایت شاندار ہے، فلاں انسپکٹر اسے دیکھ کر بہت خوش ہوا اور اُس نے کہا کہ ایسی شاندار بلڈ نگ سارے پنجاب میں کسی اور سکول کی نہیں۔مگر اس میں خوشی کی کونسی بات ہے میں