خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 189

$1944 189 خطبات محمود چالیس روزہ دعاؤں کا آغاز کر دیا تا کہ اگر میری زندگی تھوڑی ہو تو میں ان دعاؤں کے ذریعہ بھی اسلام کی ترقی اور دین کی فتح کی ایک عظیم الشان بنیادرکھ دوں تاکہ خدا کا منشاء جلد سے جلد اور مکمل طور پر دنیا میں ظاہر ہو۔مسجد مبارک کی توسیع کے سلسلہ میں نہایت شاندار اخلاص کا نمونہ تیسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں نے پرسوں مغرب کے بعد مسجد مبارک میں قادیان کے دوستوں کو توجہ دلائی تھی کہ اس مسجد کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ الہام ہے مُبَارِكْ وَ مُبَارَكٌ وَ كُلُّ أَمْرٍ مُبَارَكِ يُجْعَلُ فِيْهِ 18 کہ یہ مسجد لوگوں کو برکت دینے والی ہے ، یہ مسجد برکت کے نزول کا مقام ہے اور جو کام بھی اس مسجد میں کیا جائے گا وہ بابرکت ہو گا۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس الہام کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا تھا کہ دوستوں کو چاہیے کہ وہ کم سے کم ایک نماز روزانہ اس مسجد میں پڑھا کریں۔میں دیکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اس توجہ دلانے کا یہ نتیجہ ہوا کہ لوگ بڑی کثرت سے وہاں نمازیں پڑھنے کے لیے آنے لگ گئے اور میں جماعت پر یہ فضل اُس دن سے نازل ہو تا محسوس کر رہا ہوں جب سے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ انکشاف فرمایا۔حالانکہ وہی میں ہوں وہی تم ہو۔لیکن جس دن سے یہ انکشاف ہوا ہے جماعت کے قلوب میں ایسا تغیر پیدا ہو رہا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ انہیں ایک نئی زندگی حاصل ہو گئی ہے۔چنانچہ ادھر میں نے یہ تحریک کی اور اُدھر جماعت میں ایک ایسی بیداری پیدا ہو گئی کہ سینکڑوں لوگ مسجد مبارک میں نماز پڑھنے کے لیے آنے لگ گئے۔لوگ شکوہ کیا کرتے ہیں کہ مولوی سید سرور شاہ صاحب چونکہ لمبی نماز پڑھایا کرتے ہیں اس لیے لوگ اس مسجد کی بجائے دوسری مساجد میں نمازیں پڑھتے ہیں اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ لوگوں کی یہ شکایت درست ہے۔میں نے خود مولوی صاحب کو کئی دفعہ کہلوایا ہے کہ وہ نماز بہت لمبی نہ پڑھایا کریں۔لیکن یہ تو درست نہیں کہ اگر کوئی امام لمبی نماز پڑھائے تو ہم اس مسجد میں نماز پڑھنا ہی چھوڑ دیں جسے خدا نے برکت کا مقام ہے قرار دیا ہے۔نماز تو خدا تعالیٰ کی عبادت کا نام ہے اور عبادت ٹکریں مارنے سے نہیں ہوتی ہے بلکہ آہستہ آہستہ نماز کے ارکان ادا کرنے اور خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے