خطبات محمود (جلد 25) — Page 9
خطبات محمود 9 $1944 فرمانبر داری اور اطاعت کا مادہ پایا جاتا ہو۔اگر امام کو یہ یقین ہو اور وہ کامل وثوق سے کہہ سکتا ہو مادہ کہ لوگ میرے ہر حکم کی اطاعت کریں گے تو میں سمجھتا ہوں جتنا کام وہ پہلے کرتا ہو اس سے کئی گنا زیادہ کام وہ کر سکتا ہے۔مثلاً مجھے اپنی جماعت کے بارہ میں بہت سی باتوں کے متعلق یہ یقین اور وثوق ہے کہ اُن امور میں جماعت میری فرمانبر داری کرے گی۔مگر جن باتوں کے متعلق میرا تجربہ نہیں اُن میں ہمیشہ مجھے شبہ ہی رہتا ہے کہ نہ معلوم جماعت کے افراد ان باتوں میں بھی اطاعت کا کامل نمونہ دکھائیں گے یا نہیں۔اگر مجھے یقین ہو کہ ان باتوں میں بھی جماعت اُسی ایمان اور اُسی اخلاص اور اُسی اطاعت کا نمونہ دکھائے گی جس ایمان، اخلاص اور اطاعت کا نمونہ وہ دوسری باتوں میں دکھا چکی ہے تو میر اکام پہلے سے کئی گنا بڑھ جائے۔مگر اب ہر قدم کے اٹھاتے وقت مجھے دیکھنا پڑتا ہے کہ جماعت کے کمزور طبقہ کو میں اپنے ساتھ چلا سکتا ہے ہوں یا نہیں۔بے شک الہی جماعتوں پر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے، جب اس بات کی پروا نہیں کی جاتی کہ کمزور پیچھے رہ گئے ہیں۔مگر بہر حال جب تک وہ وقت نہیں آتا کمزور طبع کا خیال رکھنا ہے ہی پڑتا ہے۔غزوہ تبوک کے موقع پر کئی لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پا آتے اور آپ سے جنگ پر نہ جانے کی اجازت حاصل کرتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان کی کمزوری ایمان کو دیکھتے ہوئے انہیں اجازت دے دیتے۔وہ بظاہر تو مومن تھے مگر ان کے دل میں نفاق تھا اور اس وجہ سے جنگ پر جانے سے ان کا دل لرزتا تھا۔کوئی آتا اور کہتا میری بیوی بیمار ہے، کوئی کہتا اگر میں گیا تو میری فصل کو نقصان ہو گا، کوئی کہتا میرے بغیر گھر کی حفاظت کا کوئی ذریعہ نہیں، کوئی کہتا اگر میں جنگ پر چلا گیا تو میر امال سب برباد ہو جائے گا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس خیال سے کہ یہ کمزور طبقہ جماعت کے ساتھ شامل رہے انہیں اجازتیں دینی شروع کر دیں۔چنانچہ جس نے بھی آپ سے پوچھا آپ نے فرمایا بہت اچھا تم رہ جاؤ۔مگر جب آپ جنگ سے واپس تشریف لائے تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہاما فرمایا کہ تمہیں یہ حق حاصل نہیں تھا کہ تم ان کو جنگ سے پیچھے رہنے کی اجازت دے دیتے۔اب خدا نے فیصلہ کر دیا ہے کہ جو لوگ کمزور ہیں انہیں پیچھے ہیں