خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 8

خطبات محمود 8 $1944 معلوم کر سکے کہ لوگ اس قانون کا کس حد تک احترام کرتے ہیں۔پھر میرے نزدیک ایسے حالات میں مقدم امر یہ ہوتا ہے کہ امیر یا پریذیڈنٹ یا کوئی اور عہدیدار خود بھی مصافحہ نہ کرے تاکہ وہ دوسروں کے لیے نمونہ بنے اور اگر اُس نے اپنے آپ کو مستقلی ہی رکھنا ہو تو اس کا می فرض ہونا چاہیے کہ وہ لوگوں میں یہ اعلان کر دے کہ میں فلاں فلاں وجوہ سے اس حکم سے مستقلی رہوں گا۔اس کے بعد وہ بے شک منتقلی سمجھا جائے گا۔مگر اس اعلان کے بغیر اگر وہ ہے اپنے آپ کو مستثنیٰ سمجھ لے تو اس کا دوسروں پر اچھا اثر نہیں پڑسکتا اور میرے نزدیک بعض حالات یقیناً ایسے پیدا ہو سکتے ہیں جب اس قسم کے حکم سے بعض لوگوں کو منتقلی کرنا ضروری ہے ، ہو۔مثلاً استقبال ہے۔اگر ساری جماعت استقبال کے لیے کھڑی ہے اور خلیفہ وقت یا امیریا جماعت کا کوئی افسر آرہا ہے تو ایسے موقع پر کوئی نہ کوئی ایسے لوگ ضرور مقرر کرنے پڑیں گے میں جو دوسروں سے آگے بڑھ کر استقبال کا فرض ادا کریں۔یہ نہیں ہو گا کہ سب قطاروں میں کھڑے رہیں اور کوئی شخص بھی استقبال کے لیے آگے نہ بڑھے۔لیکن بہر حال ایسے موقع پر یہ پہلے سے یہ اعلان کر دینا چاہیے کہ اس ضرورت کے ماتحت فلاں فلاں دوست مستثنیٰ ہوں گے۔تا کہ لوگوں پر یہ اثر نہ ہو کہ آپ ہی ایک حکم دیا جاتا ہے اور آپ ہی اس کی خلاف ورزی کی ہے جاتی ہے۔یہ ایک غلط خیال ہے جو بعض افسروں کے اندر پایا جاتا ہے اور بعض ماتحت بھی سمجھتے ہیں کہ افسر اپنے حکم کا خود پابند نہیں ہوتا۔حالانکہ اس حکم کا وہ ایسا ہی پابند ہوتا ہے جیسے ہی دوسرے لوگ۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتا ہے لوگوں سے کہہ دے اَنَا اوَلُ الْمُسْلِمِينَ 4 یعنی جب میں کوئی بات کہتا ہوں تو سب سے پہلے اس بات کا مخاطب میرا نفس ہوتا ہے اور میں اپنے آپ کو اس پر عمل کرنے والا قرار دیتا ہوں۔لیکن پھر بھی اگر کسی وجہ سے مقامی امیر یا کوئی افسر اپنے آپ کو مستقلی کرنا چاہے تو اسے یہ اعلان کر دینا چاہیے کہ اس حکم کا اطلاق مجھ پر نہیں ہو گا۔تاکہ جماعت میں اگر بعض ایسے کمزور طبع لوگ موجود ہوں جنہیں دھوکا لگ سکتا ہو تو اس قسم کے اعلان کی وجہ سے وہ دھوکا نہ کھائیں اور ٹھوکر سے محفوظ رہیں۔غرض جماعتی ترقی کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ لوگوں کے اندر کامل