خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 10

$1944 10 خطبات محمود کر دیا جائے اور جماعت کو ترقی کے میدان میں بڑھا دیا جائے۔5 پس بے شک پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کمزوروں کو جماعت کے طاقتور حصہ کے ساتھ شامل رکھتے مگر پھر الہی حکم کے ماتحت آپ نے ان کو پیچھے کر دیا۔چنانچہ اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منافقوں کو نگا کرنا شروع کر دیا یہاں تک کہ وہ اکثر لوگوں کو نظر آنے لگ گئے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر بھی حیا سے کام لیا اور صرف چند صحابہ کو ان منافقین کے نام بتائے مگر بہر حال آپ نے ان کو بے نقاب کر دیا۔حضرت حذیفہ کو اس بات کا بڑا شوق رہتا تھا کہ وہ منافقوں کے نام معلوم کریں۔چنانچہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پڑے رہتے اور کہتے یار سول اللہ ! مجھے ان کے نام ضرور بتا دیجیے۔میں ڈرتا ہوں کہ میں کسی منافق کے پیچھے نماز نہ پڑھ لوں یا غلطی سے کسی منافق کا جنازہ نہ پڑھ لوں اور آپ انہیں بتا دیتے۔6 مگر فرماتے دیکھو ! حیا سے کام لینا اور ان کو ہے بد نام نہیں کرنا۔چنانچہ صحابہ کہتے ہیں ہم جب حضرت حذیفہ سے پوچھتے کہ کون کون منافق ہے ہے؟ تو وہ ان کے نام نہ بتاتے۔لیکن ہم اگر دیکھتے کہ حضرت حذیفہ کو کسی مسلمان کا جنازہ پڑھنے کا موقع تو ملا مگر انہوں نے اس کا جنازہ نہیں پڑھا تو ہم بھی اس کا جنازہ نہ پڑھتے اور سمجھے لیتے کہ وہ ضرور منافق ہو گا۔اسی طرح اگر حذیفہ کسی شخص کے پیچھے نماز پڑھنے سے گریز کرتے تو ہم بھی اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے تھے اور سمجھ لیتے تھے کہ وہ منافق ہے۔تو ایک وقت ایسا آیا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گو منافقوں کا نام لے کر ان کی تشہیر نہیں ہے فرمائی مگر عملی طور پر آپ اُن کو پیچھے چھوڑ گئے اور وہ تمام جماعت سے الگ نظر آنے لگے گئے۔اسی طرح ہماری جماعت میں بعض ایسے لوگ موجود ہیں جن کے متعلق یہ یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ اگر اسلام اور احمدیت کے لیے جان اور مال کلی طور پر قربان کر دینے کا ہے مطالبہ کیا گیا تو وہ اپنی جان، اپنے مال، اپنے بیوی بچوں اور اپنے وطن کو قربان کرتے ہوئے آگے بڑھیں گے اور اسلام اور احمدیت کے منشاء کے مطابق کام کریں گے یا نہیں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے گزشتہ تجربہ کی بناء پر میں امید کرتا ہوں کہ جب بھی اسلام اور احمدیت کی طرف سے انتہائی قربانی کا مطالبہ کیا گیا اکثر احمدی لبیک کہتے ہوئے آگے بڑھیں گے اور اپنی جانوں کے