خطبات محمود (جلد 25) — Page 534
خطبات محمود 534 $1944 ہے اُس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے یا نہیں کہ کاش! وہ اچھا ہو جائے۔چاہے وہ خدا کا بھی قائل نہ ہو مگر اُس کے دل میں یہ خواہش ضرور پیدا ہوتی ہے کہ کاش! اُس کا رشتہ دار اچھا ہو جائے اور اگر کوئی خدا نہیں تو اس کی فطرت یہ "کاش " کس سے کہتی ہے اور یہ خواہش کس چی سے کرتی ہے؟ اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ اُس کی فطرت ایسے وجود کی متمنی یا قائل ہے جو اُس کے مریض کو اچھا کرنے پر قادر ہے یا کم سے کم اس کے مریض کو اچھا کرنے پر قادر ہو۔اسی طرح کسی دہریہ سے یا ایسے شخص سے جو کسی مقدمہ میں پھنسا ہوا ہو پوچھا جائے کہ اُس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے یا نہیں کہ " کاش ! وہ مقدمہ جیت جائے۔تو معلوم ہو گا کہ ضرور ہوتی ہے۔پس اگر کوئی خدا نہیں، کوئی ایسی بالا طاقت نہیں تو اِس خواہش کے پیدا ہونے کے کوئی معنے ہی نہیں۔واقعات کے لحاظ سے جو نتیجہ نکلتا ہے وہ دہ نکل کر رہے گا اور جب کوئی ہستی ان واقعات میں دخل دینے والی ہے ہی نہیں تو اس خواہش کے پیدا ہونے کے کیا معنے ہو سکتے ہیں۔اس کے معنے یہی ہیں کہ گو وہ شخص عقیدۂ خدا تعالیٰ کا قائل نہیں یا دعا کا قائل نہیں مگر جب اُس پر مصیبت آئی تو اُس کے دل نے یہ خواہش کی کہ کاش! کوئی ایسی ہستی ہوتی جو میری اس تکلیف دہ حالت کو بدل سکتی۔پس یہ خواہش یا بار یک رنگ میں ایمان ہر فطرت میں داخل ہے اور ہر انسان خواہ وہ دعا کو مانے یا نہ مانے دعا کرتا ضرور ہے۔مومن تو اِس طرح دعا کرتا ہے کہ اے خدا! فلاں بیمار کو اچھا کر دے۔اے خدا! میرے قرضوں کو دور کر دے، میرے مقدمہ میں مجھے کامیاب کر ، مجھے ذلتوں سے بچا لے۔مگر دہر یہ یا ایک ایسا انسان جو دعا کا قائل نہیں وہ بینک اس طرح تو دعا نہیں میں کرتا مگر اُس کا دل بھی یہ ضرور کہتا ہے کہ کاش! ایسا ہو جائے۔یہ بالواسطہ دعا ہے۔جیسے بعض متکبر لوگ دوستوں سے یہ تو نہیں کہتے کہ میری فلاں ضرورت ہے اسے پورا کر دیں ہیں لیکن مجلس میں بیٹھے ہوئے اس رنگ میں بات کر دیتے ہیں کہ مجھے بڑی خوشی ہو گی کہ اگر اس بات کے اس طرح ہو جانے کا سامان پیدا ہو سکے اور اُس کا مطلب یہی ہوتا۔دوسرے اس بات کو سُن کر اس کی ضرورت کو پورا کر دیں۔تو ہر انسان دعاؤں کا محتاج ہے۔مگر وہ قوم جس کی حالت ایسی ہو جیسے بتیس دانتوں