خطبات محمود (جلد 25) — Page 535
خطبات محمود 535 $1944 میں زبان کی ساری دنیا جس کی مخالف ہو ، حکام اور رعایا دونوں جسے مٹانے پر تلے ہوئے ہوں۔پھر جس قوم کے مقاصد اتنے عالی ہوں کہ ان کے پورا ہونے کی بظاہر کوئی صورت نظر نہ آتی ہوایسی قوم تو دعا کی بہت ہی محتاج ہے۔اور آج دنیا میں ایسی قوم جماعت احمدیہ کے سوا اور کوئی نہیں۔اور کوئی قوم ایسی نہیں کہ جس کے مقاصد اتنے بلند ہوں جتنے ہماری جماعت کے مقاصد بلند ہیں۔اور کوئی قوم ایسی نہیں جس کے راستہ میں اتنی مشکلات ہوں جتنی ہمارے راستہ میں ہیں۔اور کوئی قوم ایسی نہیں جو ایسی بے سروسامان ہو جیسی بے سرو سامان جماعت احمدیہ ہے۔اور کوئی قوم ایسی نہیں جس کے اتنے دشمن ہوں جتنے جماعت احمدیہ کے ہیں۔پس ہمیں دعاؤں کی انتہا درجہ کی ضرورت ہے۔اگر خدا تعالیٰ دعاؤں کو سننے والا نہ ہو تو سو فیصدی ناکامی اور نامرادی ہمارے حصہ میں ہے۔مگر ہم اُس خدا کے ماننے والے ہیں جو فرماتا ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔جیسے کہ فرمایا ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ 1 تم مجھ سے مانگو میں سنوں گا۔وہ خدار مضان کے مہینہ میں خصوصاً اس کے آخری عشرہ میں دعائیں سننے پر دوسرے وقتوں کی نسبت زیادہ آمادہ ہوتا ہے۔پس ہم جن کے لیے کامیابی کا کوئی راستہ نہیں، جن کے چاروں طرف دشمن ہی دشمن ہیں اور جن کا کوئی ذریعہ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کا نہیں اور جن کا ھے کام اتنا بڑا ہے کہ کسی بڑی سے بڑی حکومت اور طاقت کا کام بھی اتنا بڑا نہیں۔ہمارے لیے تو یہ خدا تعالی کی طرف سے بھیجا ہو اوقت ہے۔ہماری بے بسی اور کمزوری اور بے سروسامانی کو دیکھ کر آج وہ آسمان سے اترا ہے تاہم اُس سے مانگیں اور وہ ہمیں دے۔اور اگر ہم اپنے فرض کو سمجھتے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہیں تو ہمیں اس رمضان کے دنوں میں کوشش کرنی چاہیے کہ اسلام اور احمدیت کی فتوحات کے لیے اور جماعت کی اصلاح نفس کے لیے اور اسلام کی تعلیم پر ثابت قدم رہنے کے لیے خدا تعالیٰ کا ایسے رنگ میں دامن پکڑیں کہ ہے وہ ہمارے ہاتھوں سے اُس وقت تک نہ چھوٹے جب تک کہ خدا تعالیٰ خود یہ نہ کہہ دے کہ اے میرے بندے! میں نے تیری دعاؤں کو سنا اور قبول کیا۔زمانہ ہمارے لیے تاریک سے تاریک تر ہوتا جا رہا ہے، مشکلات زیادہ سے زیادہ بڑھتی جاتی ہیں، دشمن روز بروز طاقتور ہوتا ہے جا رہا ہے اور آئندہ آنے والے مصائب گزشتہ مصائب کی نسبت بہت زیادہ نظر آتے ہیں اور می