خطبات محمود (جلد 25) — Page 510
خطبات محمود 510 $1944 مفسرین نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ کی یہ تفسیر کی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پہلے ستارہ کو چمکتا ہوا دیکھا تو اس کو اپنا خدا سمجھ لیا، پھر چاند کو دیکھا کہ ستارہ سے بڑا اور اُس سے زیادہ روشن ہے تو اُس کو اپنا خدا سمجھ لیا، پھر سورج کو دیکھا کہ ستارے اور چاند دونوں سے بہت بڑا اور بہت زیادہ روشن ہے تو اس کو اپنا خدا سمجھ لیا۔مگر جب ایک ایک کر کے سب چُھپ گئے تو آپ نے فرمایا إِنِّي بَرِى مِنَا تُشْرِكُوْنَ إِنِّي وَجَهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمواتِ وَالْأَرْضَ 1 آخر میں آپ خدا تعالیٰ پر ایمان لے آئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق یہ واقعہ درست نہیں مگر مفسرین کا دماغ اِس بات تک صحیح پہنچا ہے کہ انسانی دماغ بغیر الہام کے جب ہدایت پاتا ہے تو ادنی سے اعلیٰ تک جاتا ہے ہے۔بچے کے نزدیک ابتدا میں اس کی ماں ہی سب کچھ ہوتی ہے یا دوسرے لفظوں میں اُس کا یہ خدا ہوتی ہے۔بلکہ اُس کو ماں کی بھی خبر نہیں ہوتی۔وہ سب سے پہلے پستان ہی کو اپنا خدا سمجھتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ مجھے اس سے دودھ ملتا ہے۔اگر پستان نہ ملے تو روتا ہے۔پھر ماں کو پہچانتا ہے تو اس سے محبت کرتا ہے۔پھر باپ کو پہچانتا ہے تو اس سے محبت کرتا ہے۔پھر بھائی سے محبت کرتا ہے۔پھر ساتھ کھیلنے والوں سے محبت کرتا ہے۔گلی اور محلے والوں سے محبت کرتا ہے۔پھر دوسری ضروریات کھانے پینے اور پہنے کی چیزوں سے محبت کرنے لگتا ہے اور ان میں سے ہر ایک کو اپنے اپنے مقام پر اپنا مقصود سمجھتا ہے۔مگر آہستہ آہستہ ان سب کو چھوڑ تا چلا جاتا ہے۔یہاں تک کہ یہ چیزیں اُسے خدا تک پہنچادیتی ہیں۔اگر سال یا چھ ماہ کے بچہ کے اندر بولنے اور سمجھنے کی طاقت ہوتی اور اُسے کہا جاتا کہ تُو بڑا ہو کر اپنی ماں کی گود کو چھوڑ دے گا؟ تو وہ اِس بات سے اتنا ہی حیران ہو تا جتنا کہ ایک سائنسدان اس بات سے حیران ہو تا کہ اسے کہا جائے آگ جلاتی نہیں بلکہ بجھاتی ہے یا سورج چلتا نہیں بلکہ کھڑا ہے یا چاند کی روشنی میں مکتب نہیں بلکہ آپ ہی آپ ہے۔غرض جس طرح ایک سائنسدان اوپر کی باتوں سے حیران ہو گا وہ بچہ بھی اگر اُس کو یہ بات سمجھائی جاسکتی کہ ایک دن وہ اپنی ماں کی گود سے اتر جائے گا اور اس کی رغبت اپنی ماں سے کم ہو جائے گی حیران ہوتا۔اگر سات آٹھ سال کے بچہ کو یہ بات کہہ دی جائے کہ بڑا ہو کر تو ایک عورت سے شادی کرے گا اور اُس سے