خطبات محمود (جلد 25) — Page 511
$1944 511 خطبات محمود تیری رغبت زیادہ ہو جائے گی اور تو اپنی ماں کو چھوڑ دے گا تو وہ کہے گا میں ایسا پاگل نہیں ہوں کہ اپنی ماں کو چھوڑ دوں۔وہ اور ہوں گے جو ایسا کرتے ہیں۔میں تو کبھی اس طرح نہیں کر سکتا۔تو رات میں بھی انسان کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ تجھے یہ سزا دی جائے گی کہ تیرا بچھ تجھ کو چھوڑ کر اپنی عورت سے محبت کرنے لگ جائے گا 2ے پس یہ ایک فطرتی چیز ہے یہ کہ انسان مختلف وقتوں میں مختلف چیزوں سے رغبت کرتا ہے اور جس وقت وہ اُس چیز سے۔رغبت کر رہا ہوتا ہے اُس وقت وہ یہ و ہم بھی نہیں کر سکتا کہ ایک دن میں اِس چیز کو چھوڑ دوں گا۔اور جب بڑا ہوتا ہے تو پھر اس بات کا اُسے خیال بھی نہیں آتا کہ کسی وقت میں اس چیز سے رغبت رکھتا تھا اور اس کے بغیر اپنی زندگی حرام سمجھتا تھا۔ہم نے دیکھا ہے کہ بڑا بچہ چھوٹے بچہ کو گود میں بیٹھا ہوا دیکھ کر بہت بُرا مناتا ہے اور حقارت سے اس کی طرف دیکھ کر کہتا ہے کہ ہر وقت گود میں بیٹھا رہتا ہے، کبھی نیچے اترتا ہی نہیں۔اور اگر چھوٹے بچہ کو کھانے پر بیٹھا ہوا دیکھ لے تو کہے گا ہر وقت کھانے پر ہی دھرنا مار کر بیٹھارہتا ہے، یہاں سے اُٹھنے کا نام ہی نہیں لیتا۔مگر اُس کو پتہ نہیں کہ پہلے اُس کی بھی یہی حالت تھی۔وہ بھی گود میں بیٹھتا تھا اور اُس سے نیچے نہیں اتر تا تھا۔وہ بھی سارا دن کھانے پر مچی بیٹھارہتا تھا اور وہاں سے ملنے کا نام نہیں لیتا تھا۔پس جس چیز کو ایک وقت میں وہ خود اچھا سمجھتا تھا اُسی چیز کو دوسرے وقت میں حقیر سمجھتا ہے۔جس چیز کو ایک وقت اپنے لیے ضروری سمجھتا تھا دوسرے وقت میں اسی چیز کو دوسرے کے لیے غیر ضروری قرار دیتا ہے۔یہی معنے اَشهَدُ انْ لَّا إِلَهَ إِلَّا الله کے ہیں کہ پہلے انسان غیر اللہ کی طرف توجہ کرتا ہے جو بظاہر غیر اللہ کا راستہ ہے۔مگر اللہ تک پہنچنے کا اصل راستہ ہی ہے۔اگر بچہ کے اندر پستان کی محبت نہ ہوتی تو میں اس کے اندر ماں کی محبت بھی کبھی نہ ہوتی، اگر بچہ کو ماں سے محبت نہ ہوتی تو اس کو باپ سے ہے بھی کبھی محبت نہ ہوتی، اگر بچہ کو باپ سے محبت نہ ہوتی تو اس کو بھائی بہنوں سے بھی کبھی محبت میں نہ ہوتی، اگر بچہ کو بھائی بہنوں سے محبت نہ ہوتی تو اس کو دوستوں اور ساتھ کھیلنے والوں سے بھی کبھی محبت نہ ہوتی۔اور اگر اس کو اپنے اپنے وقت پر ان اشیاء سے رغبت نہ ہوتی تو سچی بات ہے یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کو بھی اپنے وقت پر نہ پا سکتا۔بات یہ ہے کہ انسان اپنی فطرت میں ہے