خطبات محمود (جلد 25) — Page 509
خطبات محمود 509 $1944 ایک ایک کر کے اُس کے سامنے آتی ہیں اور ہر ایک کے متعلق وہ یہی اندازہ لگاتا ہے کہ اس کے بغیر میرا گزارہ نہیں۔گویا وہی اُس کا خدا ہوتا ہے۔مگر آہستہ آہستہ اِن سب کو چھوڑتا چلا جاتا ہے۔پہلے ماں سے محبت ہوتی ہے تو اسی کو اپنا خدا سمجھتا ہے، پھر باپ سے محبت ہوتی ہے تو اُسی کو اپنا خدا سمجھتا ہے، پھر بھائیوں اور دوستوں سے محبت ہوتی ہے تو ان کو اپنا خدا سمجھتا ہے، پھر کھانے پینے اور پہنے کی چیزوں سے محبت ہوتی ہے تو اُن کو اپنا خدا سمجھتا ہے۔یہاں تک کہ جب عاقل بالغ ہو جاتا ہے پھر اگر اُس پر خدا کا فضل ہو جائے، اچھا استاد مل جائے جو اسے علم می سکھائے اور ماں باپ بھی اچھی طرح تربیت کرنے والے ہوں تب وہ ان تمام چیزوں کو چھوڑ کر اصلی خدا کی طرف آجائے گا اور سمجھ لے گا کہ یہ سب نقلی خدا تھے جن کو میں نے اپنی خواہشات کے ماتحت سب کچھ سمجھ رکھا تھا۔اصل خدا تو یہ ہے جو ان سب کا پیدا کرنے والا ہے۔پس اس طبعی ترتیب کے مطابق اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلهَ ہی پہلے ہے۔پہلے غیر اللہ کی محبت انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میری زندگی کا سارا انحصار انہی پر ہے۔لیکن می ایک ایک کر کے پھر ان کو چھوڑتا چلا جاتا ہے۔پہلے ماں کی گود کو ہی سب کچھ سمجھتا ہے اور اس سے الگ ہونے میں اپنی ہلاکت سمجھتا ہے۔پھر بڑا ہوتا ہے تو بھائیوں اور دوستوں سے محبت کرنے لگتا ہے اور اپنی زندگی کا تمام سکھ اور راحت انہیں کے ساتھ کھیلنے میں سمجھتا ہے۔جب ان سے مل کر کھیل رہا ہو تو ماں کے بلانے پر بھی نہیں جاتا۔اس کی ساری خوشی کھیلنے میں ہوتی ہے ہے۔پھر اور بڑا ہوتا ہے تو سیر و شکار سے محبت ہوتی ہے۔پھر صحن اور گلی میں کھیلنے کو بھول جاتا ہے اور اس کی ساری خوشیاں سیر و شکار میں ہوتی ہیں۔اگر اُس کو ان چیزوں سے روکا جائے تو یہ اِس میں اپنی ہلاکت سمجھتا ہے۔لیکن آہستہ آہستہ آپ ہی آپ ان سب کو چھوڑتا چلا جاتا ہے۔یہاں تک کہ جب بلوغت کو پہنچ جاتا ہے تو غور و فکر کے بعد خدا کی حقیقی شکل اُس کو نظر آجاتی ہے ہے اور ان تمام چیزوں کو لغو سمجھ کر چھوڑ دیتا ہے۔ا پس اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا الله کی ترتیب اِس حکمت کے ماتحت رکھی گئی ہے کہ طبعی طور پر انسان پہلے غیر اللہ سے روشناس ہوتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ ترقی کر کے اللہ تک پہنچتا۔اس لیے پہلے لا الہ رکھا اور بعد میں اِلَّا الله فرمایا۔اسی ترتیب طبعی کے ماتحت