خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 491 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 491

خطبات محمود 491 $1944 آپ یہ بھی فرما سکتے تھے کہ جو شخص ایک بالشت کے برابر یا اس کے دسویں حصہ کے برابر خدا تعالیٰ کا گھر بناتا ہے۔خدا تعالیٰ اُس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔مگر انڈار کھنے کی جگہ کے الفاظ استعمال کر کے جو لفظ مسکن پر دلالت کرتا ہے اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ مسجد کی تی مثال ایسی ہی ہے جیسے کہ انڈا سینے کی جگہ۔وہاں سے پرندوں کی نسل چلتی ہے۔اسی طرح مسجد سے روحانی پرندوں کی نسل چلتی ہے اور صداقت کے پھیلانے کے لیے وہ ایک مرکز ہوتی ہے۔پس مَفْحَصُ الْقَطَاةِ لِلْبِيْضِ کے الفاظ نے معنوں کو اور زیادہ وسیع کر دیا۔بالشت کا لفظ استعمال کرنے سے مضمون تو اور ہو جاتا۔مگر یہ خوبی نہ رہتی۔پس میرے نزدیک اس حدیث میں اوپر کے دونوں معنوں کے علاوہ ایک اور لطیف مضمون ادا ہوا ہے جس کی طرف شراح کی نظر نہیں گئی۔مَفْحَصُ الْقَطَاةِ لِلْبِيْضِ کہ کر مسجد کو روحانی پرندوں کی نسل کے پھیلنے کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔بھٹ تیتر جب انڈا رکھنے کے لیے جگہ کھودتے ہیں تو اُس جگہ پھر ان انڈوں کو سیتے ہیں، ان پر بیٹھ کر ان کو گرمی پہنچاتے ہیں، ان میں سے بچے نکلتے ہیں۔پھر وہ ان کی پرورش کرتے ہیں اور پھر بڑے ہو کر وہ بچے بھی اسی طرح کرتے ہیں۔پس میرے نزدیک یہ ایک اور لطیف مضمون ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں بیان فرمایا ہے کہ مساجد تبلیغ اسلام کے لیے ایسی ہی ہیں جس طرح کہ انڈے سینے کی جگہ ہوتی ہے۔جس طرح جانور انڈوں کو سیتا ہے اور پھر اس سے بچہ نکالتا ہے۔پھر اس بچہ سے اسی طرح اور بچے نکلتے ہیں اور ان سے پھر آگے اور بچے پیدا ہوتے ہیں۔اسی طرح مساجد کے ذریعہ سے اسلام کی نسل پھیلتی ہے۔پس اگر کوئی شخص مسجد بناتا ہے تو می یقیناً وہ جنت میں گھر لینے کا مستحق ہے۔کیونکہ جو دوسروں کو خدا کے گھر میں لاتا ہے وہ بھلا خود کیونکر خدا کے گھر سے باہر رہ سکتا ہے۔انڈے کے لفظ سے اس طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ ہم مسجد تبلیغ کا مرکز ہوتی ہے۔جو لوگ بھی مسجد میں آئیں گے وہ فائدہ اٹھائیں گے۔تو پھر یہ شخص جس نے مسجد بنائی اور اس فائدے کا موجب بنا یہ تو خدا کے حضور سے باہر رہ سکتا ہی ہے نہیں۔اگر کسی شخص کا بچہ تم ہو جاتا ہے اور ایک شخص اُس کو اٹھا کر اس کے گھر والوں کے پاس ہے پہنچا دیتا ہے تو کیا تم خیال کرتے ہو کہ گھر والے اُس شخص سے یہ کہیں گے کہ بچہ تو ہے