خطبات محمود (جلد 25) — Page 490
خطبات محمود 490 $1944 بنتی ہیں۔ورنہ اگر یہ صورت نہ ہو تو صرف بادشاہوں اور امیروں کے لیے ہی جنت میں گھر بنیں اور غریب محروم رہ جائیں۔مگر ان معنوں کے لحاظ سے غریب کا بھی حصہ ہو جاتا ہے۔اگر اس نے ایک آنہ چندہ دیا ہے یا دو آنے چندہ دیا ہے تو گویا اُس نے مسجد کا اتنا حصہ بنا دیا جو بھٹ تیتر کے انڈار کھنے کے لیے کھو دی ہوئی جگہ کے برابر ہے اور اس طرح وہ بھی خدا کے نزدیک جنت میں گھر لینے کا مستحق بن گیا۔خدا تعالیٰ اُس کو یہ نہیں کہے گا کہ تم نے ایک کمرہ نہیں بنایا اس لیے تمہیں جنت میں گھر نہیں ملے گا، تم نے صحن نہیں بنایا اس لیے تمہیں جنت می میں گھر نہیں ملے گا، تم نے دیوار نہیں بنائی اس لیے تمہیں جنت میں گھر نہیں ملے گا۔بلکہ اگر مسجد کے بنانے میں اُس نے بھٹ تیتر کے انڈا کے رکھنے کی جگہ کے برابر بھی حصہ لیا ہو گا تو خدا تعالیٰ جنت میں اُس کا وسیع گھر بنائے گا۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لَوْ كَمَفْحَصِ القَطَاةِ کا لفظ رکھ کر فرمایا کہ یہ نہیں کہ صرف امیروں کو ہی بدلہ ملے گا بلکہ ہر ایک کو اُس کے حصہ کے مطابق بدلہ ملے گا۔حتی کہ اگر کسی نے ایک انچ کے برابر بھی مسجد بنانے میں حصہ لیا ہے تو وہ بھی ضائع نہ جائے گا۔بلکہ اس کو اس کا بدلہ ملے گا۔اگر کوئی پیسہ یا دو پیسے چندہ دیتا ہے تو اس کے حصہ میں ایک ہی انچ کے برابر جگہ تو ضرور آہی جائے گی۔گویا حقیر سے حقیر چندہ دینے والے کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت میں گھر ملنے کا وعدہ دے کر سب کو آمادہ کیا کہ جس کو زیادہ توفیق ہے وہ زیادہ قربانی کرے۔امیر اور صاحب توفیق اپنی طاقت کے مطابق حصہ لے اور غریب اپنی طاقت کے مطابق حصہ لے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ دونوں معنے جو اوپر بیان ہوئے ہیں اپنی اپنی جگہ پر درست اور صحیح ہیں۔اگر کوئی اکیلا خدا کا گھر بناتا ہے تو اس کو بھی خدا تعالیٰ جنت میں گھر دے گا اور اگر چند آدمی مل کر بناتے ہیں تو اُن کو بھی خدا تعالیٰ جنت میں گھر دے گا۔اور اگر اُس کے بنانے میں کسی شخص کا بھٹ تیتر کے انڈا رکھنے کے لیے کھو دی ہوئی جگہ کے برابر حصہ ہے تو خدا تعالیٰ اس کے لیے بھی جنت میں گھر بنائے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جو فرمایا ہے کہ بھٹ تیتر کے انڈا رکھنے کی جگہ کے برابر۔اِس میں بھی ایک لطیف اشارہ پایا جاتا ہے۔