خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 492 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 492

خطبات محمود 492 $1944 ہمارے حوالہ کر دو اور تم گلی میں کھڑے رہو۔کوئی بے شرم انسان نہیں۔جس کا کھویا ہوا بچہ اُس کو واپس مل جائے اور وہ بچہ لانے والے کو یہ کہے کہ بچہ تو مجھے دے بچہ تو مجھے دے دو اور تم خود باہر گالی میں کھڑے رہو۔کوئی ذلیل سے ذلیل اور کمینہ سے کمینہ انسان بھی ایسا نہیں کر سکتا۔بلکہ وہ اُس شخص کا ممنون ہو گا۔اس کو چار پائی پر بٹھائے گا اور اُس کی خاطر تواضع کرے گا اور اگر وہ مالی باہر کا رہنے والا ہو گا تو اُسے کہے گا کہ آج آپ یہی رہیں اور اُس کو اصرار کے ساتھ اپنے پاس بٹھائے گا اور اس کی عزت کرے گا۔خدا تعالٰی بھی فرماتا ہے کہ جو شخص دین سے بے بہرہ ہے اور بچے دین کو بھول چکا ہے اور اُس کا مجھ سے محبت کا تعلق نہیں رہا ایسے سب انسان میرے بھولے ہوئے بچے ہیں۔جو کوئی ان کو واپس لاتا ہے وہ ایسا ہی ہے جس طرح کہ ایک گمشدہ اور بھولے ہوئے بچے کو والدین سے لاکر ملا دیتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم اس کی مثال بدر کے موقع پر بیان فرمائی ہے۔بدر کے موقع پر ایک عورت کا بچہ گم ہو گیا۔جنگ کے بعد آپ صحابہ کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے کہ وہ عورت کبھی ادھر بھاگی بھائی جاتی اور کبھی مجھے اُدھر جاتی۔جنگ کا میدان بڑاو سیع اور پھیلا ہو ا تھا۔وہ اس وسیع میدان میں دوڑتی پھرتی تھی۔اگر راستہ میں اسے کوئی بچہ مل جاتا تو وہ اسے گلے سے لگالیتی۔کچھ دیر اس سے پیار کرتی اور پھر اُس کو چھوڑ کر آگے چلی جاتی۔پھر اور کوئی بچہ مل جاتا تو وہ اس کو بھی گلے سے لگا لیتی اور تھوڑی دیر پیار کر کے پھر اُسے چھوڑ کر آگے بھاگ جاتی۔یہاں تک کہ پھرتے پھراتے اُسے اپنا بچہ مل گیا اور وہ اُس کو گلے سے لگا کر اطمینان کے ساتھ بیٹھ گئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو دیکھا اور صحابہ کو اشارہ کیا کہ اس عورت کی طرف دیکھ۔یہ اپنے بچے کے لیے کس طرح بیتاب تھی کہ کسی طرح اس کا بچہ مل جائے اور اس جنون میں جو بچہ بھی اسے مل جاتا تھا تہی اسے پیار شروع کر دیتی تھی۔اب جبکہ اس کو اپنا بچہ مل گیا ہے تو یہ اسے پا کر اطمینان سے بیٹھے گئی ہے۔اس کو پتہ ہی نہیں کہ جنگ کے میدان میں بڑے بڑے سردار مارے گئے ہیں، سپاہی زخمی ہوئے ہیں۔کیا تم نے اس کی محبت کو دیکھا ؟ صحابہ نے عرض کیا ہاں یار سول الله - آپ نے فرمایا خدا کو اپنی مخلوق سے اِس ماں سے بھی زیادہ محبت ہے۔جب اُس کا کوئی بندہ گمراہ ہو جاتا ہے تو اس کو اتنی ہی گھبراہٹ ہوتی ہے اور جب وہ بھولا ہوا بندہ اس کی درگاہ میں ہے