خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 439

خطبات محمود ا 439 $1944 تو مجھ پر اور میری اولاد پر عبرت ناک عذاب نازل کر۔اور میں بھی یہ اعلان کروں گا کہ اے خدا! جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے ، جو ہمارا خالق اور مالک ہے اور جو دلوں کی باتوں کو بھی جانتا ہے اگر ہم اس اظہار میں منافقت سے کام لے رہے ہیں کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ پر ہمارا کامل ایمان ہے اور اسے ہم نجات کا ذریعہ یقین کرتے ہیں تو ہمیں ایسے عذاب میں مبتلا کر کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے تو نے کسی پر ایسا عذاب نازل نہ کیا ہو۔پس اگر مولوی صاحب میں تخم دیانت باقی ہے تو وہ اِس طریق فیصلہ کو منظور کریں۔لیکن اگر وہ ایسا نہ کریں اور اس کے باوجود اس جھوٹ پر قائم رہیں تو وہ یقینا اللہ تعالی کی گرفت سے بچ نہ کی سکیں گے اور ممکن ہے اس کی سزا میں اللہ تعالیٰ اُن کو اور ان کے ساتھیوں کو ظاہر طور پر بھی کسی ایسی بے ایمانی میں مبتلا کر دے جو لوگوں کے لیے عبرت کا موجب ہو یا اگر اب نہیں تو یہ آئندہ خدا تعالیٰ یہ ظاہر کر دے کہ ان کی جماعت میں ایمان نہیں۔پس اگر مولوی صاحب میں تخم دیانت باقی ہے تو وہ اپنی جماعت کے ساتھ مباہلہ کے لیے نکلیں اور اگر ان کی جماعت ان کا ساتھ دینے کو تیار نہ ہو تو اپنے خاندان کو ساتھ لے کر نکلیں اور میرے خاندان کے ساتھ مباہلہ کریں۔ہم قسم کھائیں گے کہ ہمیں کلمہ پر پورا پورا ایمان ہے اور ہمارے نزدیک اس پر ایمان کے بغیر کسی کی نجات نہیں ہو سکتی۔سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے کسی کو بخش دے۔ہم خدا کے فضل کی حد بندی نہیں کر سکتے۔ہم جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نبی کہتے ہیں تو اس کا صرف یہ مطلب ہے کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مظہر اور آپ کا بروز بن گئے اور ایسا قرب حاصل کیا کہ یہ محمدیت کی چادر اللہ تعالیٰ نے آپ کو پہنا دی۔یہ گویا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہی نبوت ہے جو ہم آپ میں دیکھتے ہیں۔ورنہ نئی نبوت کا دعویدار ہمارے نزدیک کافر اور دجال ہے۔ایسا ہی شخص نبی ہو سکتا ہے جس پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی چادر ڈال دی گئی۔ہاں! ہم نبوت کی چادر کو نبوت ہی کہیں گے اگرچہ بروزی طور پر ہی نور نبوت حاصل ہوا ہو۔اس کے بغیر ہم کسی نبوت کو نہیں مانتے۔پس مولوی محمد علی صاحب کو چاہیے کہ اس طریق پر فیصلہ کرلیں۔اگر ان میں ہمت ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ الزام صحیح ہے تو ان کے لیے ہے