خطبات محمود (جلد 25) — Page 438
$1944 خطبات محمود 438 میں کم ہوں گے مگر قربانی میں چار ہزار کے برابر ہوں گے۔مولوی محمد علی صاحب کو مباہلہ کی دعوت : اس کے بعد میں ایک اور مضمون کے بارہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔حال ہی میں مولوی محمد علی صاحب نے ایک مضمون لکھا ہے جس میں ہمیں بہت سی گالیاں دی ہیں۔ان گالیوں کے متعلق تو میں کچھ نہیں کہوں گا۔برتن کے اندر جو کچھ ہوتا ہے وہی باہر آتا ہے۔مگر ایک بات ایسی ہے جس کا جواب دینے سے میں باز نہیں رہ سکتا۔ان کی طرف سے بار بار ہم پر یہ الزام لگایا جاتا ہے اور اس مضمون میں بھی اس الزام کو دہرایا گیا ہے کہ ہم کلمہ طیبہ کو منسوخ کرتے ہیں۔یہ ایک ایسا اتہام ہے کہ میں نہیں سمجھ سکتا اس سے بڑا جھوٹ بھی کوئی بول سکتا ہے۔وہ قوم جو کلمہ طیبہ کی خدمت کو اپنی زندگی ہے کا مقصد بجھتی ہو اُس پر یہ الزام لگانا کہ وہ اسے منسوخ قرار دیتی ہے اتنا بڑا ظلم ہے اور اتنی بڑی دشمنی ہے کہ ہماری اولادوں کو قتل کر دینا بھی اس سے کم دشمنی ہے۔ہماری اولادوں کو ی قتل کر دینا اتنی بڑی دشمنی نہیں جتنا یہ کہنا کہ ہم لا إله إلا الله محمد رسول الله كے منكر ہیں۔اور ایسا جھوٹ بولنے والے کے دل میں خدا تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و کی محبت ہر گز نہیں ہو سکتی۔جس کے دل میں خدا اور رسول کی محبت ہو وہ ایسا جھوٹ نہیں بول سکتا۔یہ ہم پر اتنا بڑا الزام ہے کہ ہمارے کسی بڑے سے بڑے مگر شریف دشمن سے بھی پوچھا جائے تو وہ یہ کہے گا کہ یہ جھوٹ ہے۔اور میں سمجھتا ہوں اب فیصلہ کا صرف ایک ہی ذریعہ ہے۔اگر مولوی صاحب میں تخم دیانت باقی ہے تو وہ اور ان کی جماعت ہمارے ساتھ اس بارہ میں مباہلہ کریں کہ آیا ہم کلمہ طیبہ کے منکر ہیں ؟ اور اگر ان کی جماعت اِس بارہ میں ان کا ساتھ دینے کو تیار نہ ہو تو وہ اپنے آپ کو اور اپنے بیوی بچوں کو ساتھ لے کر میرے ساتھ مباہلہ کریں۔میں بھی اپنی جماعت کے ساتھ مباہلہ کروں گا۔اور اگر ان کی جماعت ان کا ساتھ نہ دے اور وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ مباہلہ کریں تو میں بھی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ مباہلہ کروں گا۔وہ بھی یہ اعلان کریں کہ اے خدا! جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں کا کام ہے اور جو دلوں کی باریکیوں کو بھی جانتا ہے میں تیری قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مرزا محمود احمد اور اس کی جماعت کلمہ شہادت کو منسوخ قرار دیتے ہیں اور اگر میں اِس دعوی میں جھوٹا ہوں بھی