خطبات محمود (جلد 25) — Page 357
$1944 357 خطبات محمود ایک فرد مارا جاتا ہے تو ہزار اور کھڑے ہو جاتے ہیں۔پس سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ایسا ایمان اور یقین پیدا کرو۔اور اس کے پیدا کرنے کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام یعنی قرآن مجید کو بار بار پڑھو، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات کو بار بار پڑھو۔خدا تعالیٰ کا تازہ کلام انسان کے ایمان میں تازگی بخشتا۔تازگی بخشتا ہے۔قرآن کریم ایسی کتاب نہیں جو کسی زمانہ میں بھی پرانی ہو جائے۔ہمیشہ ہی تازہ ہے۔اس میں آج بھی ویسے ہی معارف ہیں جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھے اور ہمیشہ یہ خزانہ اسی طرح رہے گا۔اس کی عبارتوں کا آپس میں جوڑ ، الفاظ کی ترتیب اور اس کی سورتوں کا آگے پیچھے ہونا سب کچھ معجزہ ہے اور اس لیے اسے جب بھی پڑھا جائے یہ ایمان کو تازگی بخشتا ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات ہیں یہ بھی اللہ تعالیٰ کا تازہ کلام اور اس لحاظ سے ایمان کو تازہ کرنے والے ہیں۔ان کو ہر زمانہ میں پڑھنے والا دیکھتا ہے کہ فلاں الہام اس کے اپنے گھر میں یا ہمسایہ میں یا محلہ یا شہر میں یا ملک میں ہے یاکسی اور ملک میں پورا ہو رہا ہے اور اس سے ایمان تازہ ہوتا ہے۔زندہ ایمان بخشنے کاذریعہ اللہ تعالیٰ کے تازہ کلام کے سوا اور کوئی نہیں۔پس ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا تازہ کلام پڑھتے رہو اور اس بات کو مد نظر رکھو کہ خدا تعالیٰ کا تازہ سے تازہ کلام قرآن کریم ہے۔قرآن کریم ایسا کلام ہے جو کبھی بھی باسی نہیں ہو سکتا۔پھر اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات ہیں۔اس کے بعد کئی ایسی باتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے قبل از وقت بتائیں اور پھر وہ اُسی طرح کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا پوری ہوئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعض پیشگوئیاں بھی میرے ذریعہ پوری ہوئی ہیں اور یہ بھی ایک ہوش مند انسان کے ایمان کو بڑھانے کا موجب ہیں۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتاہوں کہ سب سے پہلے اپنے ایمانوں کو مضبوط کرنے کی کوشش کرو۔اس کے بعد تین چیزیں ہیں جب تک وہ جماعت میں قومی طور پر پیدا نہ ہو جائیں قومی ترقی ممکن نہیں۔فردی ترقی تو ہو سکے گی مگر قومی نہ ہو گی۔ان میں سے پہلی چیز سچ بولنا ہے۔میں نے بار بار دوستوں کو توجہ دلائی ہے کہ جب تک قوم میں سچ بولنے کی عادت