خطبات محمود (جلد 25) — Page 358
خطبات محمود 358 $1944 پیدا نہیں ہوتی اُس وقت تک ترقی ممکن نہیں۔سچ میں بہت فوائد ہیں۔یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک نعمت ہے۔خدا تعالیٰ کا اپنا نام حق ہے۔لوگ اپنے لڑکوں کے نام عبد الحق، عطاء الحق وغیرہ خدا تعالیٰ کے اسی نام پر رکھتے ہیں یعنی حق کا بندہ حق کی عطاء۔پس جو سچ کو چھوڑتا ہے وہ خدا کو چھوڑتا ہے۔یورپ کی قوموں کو گوہم سچا نہیں سمجھتے مگر ان میں یہ صفت ہے کہ مقدمات کے وقت ہر شخص کوشش کرتا ہے کہ سچ بولے۔مگر یہاں سچ بولنے والا بھی کوشش کرتا ہے کہ کچھ نہ کچھ جھوٹ ضرور بولے۔یورپ کے مجرم جھوٹ بولتے ہیں مگر کم سے کم۔جتنا وہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے ضروری سمجھتے ہوں۔مگر یہاں بلاوجہ جھوٹ بولا جاتا ہے۔پھر اگر کسی کے دوست پر کوئی الزام آتا ہو تو اس کو بچانے کے لیے بھی جھوٹ بول دیتے ہیں اور یہ کوئی نہیں سوچتا کہ میں نے اپنی قبر میں جانا ہے اور میرے دوست نے اپنی قبر میں۔حالانکہ اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ سچ بولو خواہ وہ تمہارے اپنے نفس کے خلاف ہو، خواہ ماں باپ اور بچوں کے خلاف ہو، خواہ بھائی کے خلاف ہو۔ہمیشہ دلیری کے ساتھ سچی گواہی دو۔5 ہماری جماعت میں ایک آدمی ہے جو بظاہر نیک ہے۔وہ سلسلہ کا کام بھی خوب کرتا ہے۔ممکن ہے اب اس کی اصلاح ہو گئی ہو۔میں نے ایک دفعہ اس سے بھی بات معلوم کرنے کے لیے ہے آدھ گھنٹہ تک اُس پر سوالات کیے مگر اس نے بچی بات نہ بتائی۔جب میں اسے پوچھتا کہ فلاں میں وقت فلاں آدمی وہاں تھا؟ تو وہ جواب دیتا کہ میرا منہ اُس وقت فلاں طرف تھا۔آخر آدھ گھنٹہ کی کوشش کے بعد میں نے اُسے کہہ دیا کہ آپ سے سیچ نکالنے میں مجھے بڑی دقت پیش آئی ہے۔تو وہ مبلغ بھی ہے، سلسلہ کا کام بھی کرتا ہے (آنریری طور پر، ورنہ کارکن نہیں ہے) مگر سچ بولنا گو یا اس کے لیے موت تھا۔میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی کسی سے گواہی لینے کا موقع میں ملا وہ سیدھی بات کرنے کے بجائے ضرور ایچا پیچی سے کام لیتا ہے۔ساری عمر میں میں نے ہے ایک شخص سے مرعوب کر دینے والا نہ سنا ہے۔یہ بہت ہی تھوڑی مثال ہے۔مگر بچ بھی بڑا ہے شاندار ہے۔اس سے بہت بڑا جرم سرزد ہوا۔پھر یہ بھی نہیں کہ وہ گستاخ تھا اور یہ بھی نہیں کہ ہم وہ مقابلہ کرنا چاہتا تھا۔میں نے اُسے بلایا اور پوچھا کہ آپ نے یوں کیا ہے ؟ اس کے اس جرم کا کوئی ثبوت نہ تھا۔کوئی گواہی اس کے خلاف نہ تھی۔مگر جو نہی میں نے اس سے سوال کیا اس می