خطبات محمود (جلد 25) — Page 356
$1944 356 محمود تو یہ اخلاص اُن کے اندر کس چیز نے پیدا کیا تھا ؟ یہ ایمان ہی کا نتیجہ تھا ان کو خدا تعالیٰ پر اور اس کے کلام پر بے انتہا یقین تھا شبہ کی حالت نہیں تھی۔شبہ کی حالت میں انسان اس قدر قربانی نہیں کر سکتا کیونکہ کبھی وہ خیال کرتا ہے کہ شاید یہ بات صحیح ہو اور کبھی خیال کرتا ہے شاید صحیح نہ ہو۔مگر وہ لوگ یقین کامل کے مقام پر تھے۔موت کے بعد کی زندگی پر بھی انہیں کامل یقین تھا اور وہ خدا تعالیٰ سے ملنے کے لیے بے تاب رہتے تھے اور دین کی راہ میں مرنا بہت بڑی نعمت یقین کرتے تھے۔ضرار بن ازور ایک بہت بڑے جرنیل اور بہادر سپاہی تھے۔ایک جنگ کے موقع پر کفار کے ایک پہلوان نے مسلمانوں کے بہت سے سپاہی مار دیئے۔آخر حضرت ضرار اس کے مقابلہ پر بھیجے گئے۔آپ اس کے سامنے ہوئے تو معا واپس دوڑ پڑے اور اپنے لشکر میں پہنچ کر سیدھے اپنے خیمہ میں کھس گئے۔یہ دیکھ کر تمام مسلمانوں نے میں ہر اس پھیل گیا اور اسلامی کمانڈر بھی بہت حیران ہوا کہ یہ کیا ہوا۔اس نے کسی آدمی کو حکم دیا کہ ضرار سے پوچھو کیا بات ہے۔وہ پوچھنے گیا تو ضرار اُس وقت خیمہ سے باہر آچکے تھے۔اس نے پوچھا تو ضرار نے جواب دیا کہ میرے متعلق غلط فہمی ہوئی ہے۔میں میدان سے بھاگا نہیں میں جب اس کے مقابل پر ہو ا تو اس وقت میں نے زرہ پہنی ہوئی تھی۔میرے نفس نے می کہا کہ کیا یہ زرہ تو نے اس لیے پہن رکھی ہے کہ اس کافر کے ہاتھ سے مارا نہ جاؤں۔کیا تُو خدا تعالیٰ سے ملنے میں خوف محسوس کرتا ہے۔اس پر میں نے سوچا کہ اگر میں مارا گیا تو خدا ہے تعالیٰ کو کیا منہ دکھاؤں گا کہ میں زرہ کی مدد سے تیرے سامنے آنے سے بچنا چاہتا تھا۔اس لیے میں واپس آگیا کہ زرہ اُتار دوں۔اب میں ننگے بدن اس کے مقابل پر جاتا ہوں۔اسے میں نے اس لیے اتار دیا ہے تا میرے اور میرے خدا کے درمیان کوئی روک نہ ہو۔یہ یقین اور وثوق جب کسی قوم میں پیدا ہو تو تبھی وہ کامیابی کا منہ دیکھ سکتی ہے۔ایسا یقین حاصل ہونے کے بعد کوئی قوم مرنے سے نہیں ڈر سکتی اور جو قوم مرنے کے لیے تیار ہو جائے اسے کوئی بار نہیں سکتا۔جو لوگ خود اپنے لیے موت قبول کر لیتے ہیں فرشتے ان کو زندہ کرنے کے لیے آتے ہیں۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر موت کے بعد زندگی ہوتی ہے اور اس لیے جو خود اپنے لیے موت وارد کرے اسے ہزاروں جانیں مل جاتی ہیں۔ایسی قوم کا اگر ہم