خطبات محمود (جلد 25) — Page 243
$1944 243 خطبات محمود تمام زمین کو اس طرح کھود کر رکھ دیتے کہ وہ اپنے خزانے اُگلنے لگ جاتی تو پھر چاہے ایک سال کے بعد ہی وہ مر جاتے انہیں سمجھنا چاہیے تھا کہ اگر انہیں سو سال کی زندگی ملتی تب بھی اس سو سال کی زندگی میں انہیں اتنا ثواب نہ ملتا جتنا ثواب وہ ایک سال میں حاصل کر گئے۔مگر بجائے اس کے کہ محنت اور اخلاص اور دیانتداری کے ساتھ کام کیا جاتا وہاں جو لوگ کام کرنے کے لیے بھیجے گئے انہوں نے محنت اور توجہ سے کام نہیں کیا۔بے شک ہم نے اعلیٰ درجہ کے تعلیم یافتہ آدمی وہاں نہیں بھجوائے۔ہم نے اب تک انہی لوگوں کو بھیجا ہے جن کی تعلیم ادنی تھی۔مگر بہر حال ایمان اور اخلاص تعلیم پر منحصر نہیں۔صحابہ میں کونسی تعلیم تھی۔میں مثلاً حضرت ابو ہریرہ کہاں تک پڑھے ہوئے تھے ؟ انہوں نے تعلیم نہ ہونے کے باوجود کام کیا ہے اور ایسے اخلاص سے کام کیا کہ آج تک اُن کے نام زندہ ہیں اور ان کے لیے دعائیں کرنے والے لوگ دنیا میں پائے جاتے ہیں۔اسی طرح ان لوگوں کو سمجھ لینا چاہیے تھا کہ اگر سلسلہ کے لیے چوبیس گھنٹوں میں سے بائیس گھنٹے انہیں کام کرنا پڑتا ہے تب بھی انہیں کام کرنا ہے چاہیے۔وہ اپنے لیے موت پسند کر لیتے مگر چوبیس گھنٹوں میں سے بائیس گھنٹے ہی سلسلہ کے لیے وقف کر دیتے اور سمجھتے کہ جو بنیاد آج ہم اپنے ہاتھوں سے رکھ رہے ہیں اسی پر وہ عمارت تیار ہونے والی ہے جو اسلام کی اشاعت کے لیے ضروری ہے۔سینکڑوں مبلغ اس کی آمد سے رکھے جائیں گے اور ہر مبلغ جو دنیا میں اسلام کی تبلیغ کرے گا اُس کا ثواب ہمیں ملے گا۔ایک مبلغ کو صرف اسی کوشش کا ثواب مل سکتا ہے جو وہ کرے۔لیکن سلسلہ کی زمینوں پر اگر لوگ محنت سے کام کریں تو انہیں سینکڑوں مبلغوں کا ثواب حاصل ہو سکتا ہے۔کیونکہ انہی کی محنت ہے کے نتیجہ میں تبلیغ کو وسیع کیا جارہا ہو گا۔یہ وہ احساس ہے جس کے ماتحت انہیں کام کرنا چاہیے تھا۔مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہاں جس قدر کام کرنے کے لیے بھجوائے گئے ہیں ان میں سے کسی نے اس حقیقت کو نہیں سمجھا۔بجائے اس کے کہ ان کے ذریعہ سلسلہ کے اموال میں برکت ہوتی وہ اس طرف مشغول ہو گئے کہ انہیں اپنی بھینسوں کے لیے چارہ کا فکر ہے، انہیں اپنی گھوڑیوں کا فکر ہے، کہیں دوسروں کو ڈانٹنے اور ان پر جرمانہ کرنے کا انہیں ہر وقت خیال رہتا ہے۔گویا جو اصل کام تھا وہ ان کی نظروں سے اوجھل ہو گیا اور دنیاداری میں ہے