خطبات محمود (جلد 25) — Page 244
خطبات محمود 244 $1944 ملوث ہو گئے اور یہی حال احمدی ہاریوں کا ہے۔انہوں نے وہاں کوفہ کے بدفطرت لوگوں کا نمونہ دکھایا ہے اور نیک احمدیوں کا نمونہ نہیں دکھایا۔مگر وہ خوش نہ ہوں کہ انہوں نے کچھ کما لیا ہے۔زیادہ دن نہ گزریں گے کہ وہ خدا کی گرفت میں آئیں گے۔میں ان کا جو انجام دیکھتا ہے ہوں خوش کن نہیں ہے۔میری بھی چونکہ وہاں زمین ہے اس لیے میں نے اپنے ایک عزیز کو وہاں بھجوادیا کہ شاید وہ شوق سے کام کرے مگر وہ بھی ناکام ثابت ہوا اور اس نے قطعاً اعلیٰ مخلصوں والی قربانی پیش نہیں کی۔غرض اِس وقت تک جتنی کوفت اور تکلیف مجھے اس کام کی وجہ سے اٹھانی پڑی ہے اتنی کوفت اور تکلیف مجھے اور کسی کام سے نہیں ہوئی۔دوسرے تمام کاموں میں مجھے اچھے آدمی مل گئے ہیں مگر یہاں شاید دنیا کی لالچ اور حرص آجاتی ہے اس لیے صحیح طور پر کام کرنے والے ابھی تک نہیں ملے۔یا شاید وہ کام بھی نہیں کر سکتے تھے اور شاید میں بھی ابھی تک ایسے لوگوں کو نہیں چن سکا جو اِس کام کو پوری محنت اور دیانتداری سے کریں۔بہر حال ہمیں مخلص آدمیوں کی ضرورت ہے جو زمینوں کا تجربہ رکھتے ہوں اور جو دیانتداری اور محنت کے ساتھ سلسلہ کا یہ کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔تاکہ ہمارا مالی پہلو مضبوط ہو اور ہم جلد سے جلد تبلیغ کی اس سکیم کو جاری کر سکیں جو میرے مد نظر ہے۔میں علاوہ سندھ کی زمینوں کے ، سلسلہ کے اموال بڑھانے کے لیے بعض اور ذرائع سے بھی کام لے رہا ہوں اور اس کام کو شروع بھی کر دیا گیا ہے مگر میں ابھی اس کا اظہار نہیں کرتا۔مجھے یقین ہے کہ اُس کے نتیجہ میں ہندوستان میں ہماری جماعت کو ایسی فضیلت حاصل ہو جائے گی کہ دنیا کے لوگ تسلیم کریں گے کہ یہ جماعت دینی طور پر ہی قابل نہیں بلکہ دنیوی طور پر بھی خدا تعالیٰ نے اس جماعت کو ایسی عزت بخشی ہے جو دوسری قوموں اور جماعتوں کو حاصل نہیں۔اگر یہ سکیم کامیاب ہو جائے تو خدا تعالی کے فضل سے ہمیں لاکھوں بلکہ کروڑوں روپیہ بڑی آسانی سے میسر آسکتا ہے۔میں چار پانچ سال سے اس کے متعلق کوشش ہے کر رہا تھا۔لہا کام تھا اور تعلیم سے تعلق رکھتا تھا اور تھوڑے عرصہ میں نہیں بلکہ چھ سات سال میں یہ کام ہو سکتا تھا۔اب یہ عرصہ چونکہ ختم ہونے کے قریب ہے اس لیے اس کام کی مچی