خطبات محمود (جلد 25) — Page 242
$1944 242 خطبات محمود کون چلائے گا، کارخانے کون جاری کرے گا، زمینوں کی کون نگرانی کرے گا، صنعت و حرفت کی طرف کون توجہ کرے گا، علوم کون پھیلائے گا۔پس یہ صحیح نہیں کہ صرف تبلیغ کرنا دین ہے۔دین اسلامی نظام کے ہر شعبہ کا نام ہے اور اس نظام کا ہر شعبہ ویسا ہی اہم ہے جیسے تبلیغ کرنا۔مثلاً جب بعض لوگ تبلیغ کے لیے جاتے ہیں تو ضروری ہے کہ ان کے پیچھے ایسے لوگ ہوں جو لٹریچر تیار کر کے اُن کو بھیجیں۔کہیں قرآن کی تفسیر ہو رہی ہو، کہیں حدیثوں کے ترجمے شائع ہو رہے ہوں، کہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے تراجم ہو رہے ہوں، کہیں اور لٹریچر تیار ہو رہا ہو۔اگر ان کے پاس کثرت سے لٹریچر نہیں ہو گا، اگر ان کے پاس کتابیں نہیں ہوں گی، اگر ان کے پاس روپیہ نہیں ہو گا تو وہ تبلیغ کو وسیع کرنے کا کام کس طرح کر سکیں گے۔پس سلسلہ کا ہر کام تبلیغ سے وابستہ ہے۔جو شخص زمین میں ہل چلاتا ہے وہ بھی تبلیغ کرتا ہے ، جو شخص کار خانہ چلاتا ہے وہ بھی تبلیغ کرتا ہے ، جو شخص زمینوں کی نگرانی کرتا ہے وہ بھی تبلیغ کرتا ہے، جو شخص لٹریچر شائع کرتا ہے وہ بھی تبلیغ کرتا ہے، جو ؟ شخص سلسلہ کا کوئی اور کام کرتا ہے وہ بھی تبلیغ کرتا ہے۔آخر یہ تمام کام ہوں گے تبھی روپیہ ہے آئے گا اور تبھی اس کے ذریعہ مبلغوں کو پھیلایا جا سکے گا۔ہم پر خدا تعالیٰ نے فضل کیا اور میں تحریک جدید کے چندہ کے ذریعہ کئی سو مربع زمین ہمیں مل گئی۔پنجاب میں ایک مربع بچیں تیس ہزار روپیہ کو ملتا ہے۔گورنمنٹ کی نیلام میں بھی ہیں سے پچیس ہزار تک مربع ملتا ہے اور اگر پبلک میں سے کوئی فروخت کرے تو تیس سے چالیس ہزار روپیہ تک ایک مربع فروخت ہوتا ہے۔مگر ہم نے سندھ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے قریبا چار سو مربع زمین تحریک ان جدید کی لے لی ہے۔اگر پنجاب میں اتنی ہی زمین خریدی جاتی تو ایک کروڑ بیس لاکھ روپیہ خرچ ہوتا۔مگر ہم کو وہاں اوسطا مختلف اخراجات شامل کر کے ایک مربع پانچ ہزار روپیہ میں ملا ہے ہے اور وہاں ہماری ساری جائیداد میں لاکھ روپیہ کی ہے۔گویا ہمیں لاکھ روپیہ میں ہمیں وہ چیز مل گئی روپیہ میں جو پنجاب میں ایک کروڑ بیس لاکھ روپیہ میں مل سکتی تھی۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ سلسلہ کے لیے ہمیں اس قدر زمین مل گئی۔اگر جماعت کے دوست اس کام کو دین کا کام سمجھ کر محنت اور دیانتداری سے سر انجام دیتے اور می