خطبات محمود (جلد 25) — Page 770
خطبات محمود 770 $1944 واپس لے لیتا ہوں اور ان کو ہٹا دیتا ہوں۔اللہ تعالیٰ کے ناموں میں اَلْقَابِضُ اور الْبَاسِطُ بھی نام ہیں۔یعنی وہ قبض بھی کرتا ہے اور بسط بھی کرتا ہے۔یہ لہروں کا سلسلہ جو ہے اس کی حکمت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں رات اور دن کی حکمت بیان فرمائی ہے۔چنانچہ فرمایا و جَعَلْنَا الَّيْلَ لِبَاسًا وَ جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشَا 2 یعنی رات کا وقت انسان کے لیے لباس کے رنگ میں آتا ہے جو اُس کی کمزوریوں کو ڈھانپ لیتا ہے۔انسان اپنی فطرت کے لحاظ سے متواتر کام نہیں کر سکتا۔اگر اسے متواتر کام پر لگا دیا جائے تو ایک وقت ایسا آئے گا کہ وہ تھک جائے گا اور پھر بے ہوش ہو کر گر پڑے گا۔انسان کی اس کمزوری کو ڈھانپنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے رات بنائی ہے۔انسان کی یہ جو کمزوری ہے کہ وہ متواتر کام نہیں کر سکتا اور تھک جاتا ہے رات اِس کمزوری کو ڈھانپ لیتی ہے اور دن چڑھنے پر وہ پھر کام کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔یہی حالت روحانی ترقی اور ترقیات کی ہے۔انسان پر بھی ایسے وقت آتے ہیں جب اُس کی روحانیت قبض کی حالت میں ہوتی ہے اور اس پر ایسے وقت بھی آتے ہیں جب اس کی روحانیت پر بسط کی می حالت ہوتی ہے۔ایک معمولی درجہ کے مومن پر بھی کوئی وقت ایسا آتا ہے جب وہ سمجھتا ہے ؟ کہ وہ خدا سے مل گیا ہے اور اُس کا خدا اُس کے سامنے ہے اور اپنے سارے جلال اور ساری شان و شوکت کے ساتھ اس پر ظاہر ہو رہا ہے۔اور دوسرے وقت میں وہی مومن اپنی نماز کو کھڑا کرنے میں لگا ہوتا ہے۔وہ اُسے کھڑا کرتا ہے مگر وہ گرتی ہے۔وہ اُسے پھر کھڑا کرتا ہے اور وہ پھر گرتی ہے۔وہ پھر کھڑا کرتا ہے مگر وہ پھر گرتی ہے۔اور یہ حالت معمولی درجہ کے مومن کے ساتھ ہی مخصوص نہیں بلکہ اونچے درجہ کے مومن بھی اپنے اپنے مدارج کے لحاظ سے اس حالت میں سے گزرتے ہیں۔ایمان و روحانیت کے اعلیٰ مقامات میں بھی انسان پر یہ حالت گزرتی ہے۔گو اس حد تک نہیں جس حد تک کہ معمولی درجہ کے مومنوں پر گزرتی ہے۔مگر اس میں شک نہیں کہ اعلیٰ درجہ کے مومن پر بھی قبض اور بسط کی حالت آتی ہے اور یہ حالت انسان کو جگانے اور بیدار کرنے کے لیے آتی ہے۔جیسے نماز میں کبھی انسان می قیام کرتا ہے، کبھی رکوع کرتا ہے، کبھی سجدہ کرتا ہے اور کبھی قعدہ۔اگر ایک ہی حالت ہو میں یصل مسودہ میں یہاں لفظ پڑھا نہیں جاتا۔(مرتب)