خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 641 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 641

$1944 641 خطبات م محمود فوجی ہیں اور جو اس چندہ میں حصہ لینے کی خواہش رکھتے ہیں وہ بھی بڑے شوق سے اس میں حصہ لے سکتے ہیں۔اُن کو میری طرف سے اس تحریک میں شامل ہونے کی اجازت ہے۔گویا یہ چندہ خالص کلکتہ کی جماعت کی طرف سے نہیں ہو گا بلکہ کلکتہ اور اُس کے نواحی کی تمام جماعتوں اور افراد کو یہ حصہ دیا جائے گا۔ایک حصہ جیسا کہ پہلے اعلان ہو چکا ہے میں سارے ہندوستان کی لجنہ اماء اللہ کو ی دیتا ہوں پہلے لجنہ اماء اللہ کے سپرد تینتیس ہزار روپیہ کا جمع کرنا تھا۔مگر اس لیے کہ اب ہے لجنہ اماء اللہ کو صرف ایک حصہ دیا جائے گا اٹھائیس ہزار روپیہ اُس کے ذمہ ڈالا جاتا ہے جو ہم سارے ہندوستان کی عورتوں کی طرف سے ہو گا۔میں اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ جو جو حلقے مقرر کیے گئے ہیں اُن حلقوں کی عورتوں کا چندہ اُن کے حلقوں میں شمار نہیں ہو گا بلکہ لجنہ اماء اللہ کے چندہ میں اُس کو شامل کیا جائے گا۔مثلاً لاہور کے حلقہ میں عورتوں کی طرف سے جو چندہ جمع ہو گا وہ لاہور کے حلقہ میں شامل نہیں ہو گا بلکہ لجنہ اماء اللہ کے چندہ میں اُس روپے کو شامل کیا جائے گا۔اسی طرح کلکتہ یا دوسرے حلقوں کی عورتیں جو چندہ جمع کریں گی وہ چندہ اُن حلقوں میں شمار نہیں ہو گا بلکہ لجنہ اماء اللہ کے حلقہ میں شمار ہو گا۔پس قرآن کریم کے ایک ترجمہ کا خرچ اور قرآن کریم کے ایک ترجمہ کی اشاعت اور اُس کی چھپوائی کا خرچ، اسی طرح سلسلہ احمدیہ کی کتابوں یا اسلامی کتب میں سے کسی ایک کتاب کے ترجمہ کا خرچ اور اُس کتاب کی چھپوائی اور اُس کی اشاعت کا خرچ لجنہ اماء اللہ کے ذمہ ہو گا۔یہ تین حصے ہوئے۔اس کے علاوہ ایک ترجمہ قرآن کا خرچ اور ایک ترجمہ قرآن کی چھپوائی کا خرچ، اسی طرح ایک کتاب کے ترجمے کا خرچ اور ایک کتاب کی چھپوائی کا خرچ خلیفہ قادیان کے ذمہ ہو گا۔یہ چار حصے ہوئے۔اب صرف تین حصے اور رہ گئے ہیں۔میں اپنے حق کی قربانی کا اعلان کر چکا ہوں اور میں نے بتایا ہے کہ دوستوں کی خواہشوں کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ حق جو میں نے اپنے لیے رکھ لیا تھا اسے میں نے ترک کر دیا ہے۔پس میں اپنا چندہ جو چھ ہزار روپیہ ہے قادیان کی مو جماعت کے چندہ میں انشاء الله جمع کرادوں گا۔لجنہ اماء اللہ نے چونکہ خود مطالبہ نہیں کیا تھا۔بلکہ انہیں زائد طور پر ایک حق دے دیا گیا تھا اس لیے میں نے اُن کا وہ حصہ باہر کی جماعتوں کو ہے