خطبات محمود (جلد 25) — Page 631
خطبات مج محمود 631 $1944 کسی دوسرے حلقہ کو دے دیا جائے گا۔پس جب ان علاقوں کی طرف سے اطلاع آجائے گی کہ انہوں نے یہ بوجھ اپنے ذمہ لے لیا ہے اُس وقت سے یہ چندہ ان کے ذمہ سمجھا جائے گا۔میں نے صرف ان کو مشورہ دیا ہے اور اس لیے ان کے نام لے دیے ہیں تاکہ وہ اس موقع سے محروم نہ رہ جائیں۔ورنہ ضروری نہیں کہ وہ یہ بوجھ اپنے ذمہ لیں۔میں نے صرف اس لیے نام لے دیے ہیں تاکہ مشورہ کر کے ہمیں جلدی اطلاع دے سکیں۔اور اگر وہ حصہ نہ لینا چاہیں تو ہے خدا تعالیٰ کے فضل سے ابھی ہمارے پاس جماعت کے ایسے حصے ریزرو ہیں جو اس بوجھ کو اُٹھا لیں گے یا یوں کہو کہ اس انعام کو اچک لیں گے۔پس میں نے جماعتوں کے نام بھی بتا دیے ہیں اور ہر جگہ کا مرکز بھی مقرر کر دیا ہے۔ہر علاقہ کے مراکز کو چاہیے کہ مجھے ایک مہینہ کے اندر اندر یعنی 30 نومبر تک اپنے حلقہ کی جماعتوں سے مشورہ کر کے اطلاع دیں کہ کس حد تک ان کا علاقہ بوجھ اٹھا سکتا ہے۔اِن وعدوں کی ادائیگی کے لیے ایک سال کی میعاد ہے۔آخری میعاد 31 / اکتوبر 1945ء ہے۔پس ٹھے ایک مہینہ کے اندر اندر یعنی 30 نومبر تک بلکہ 25 نومبر تک یہ اطلاع پہنچ جانی چاہیے کہ آیا وہ علاقے جن کے میں نے نام لیے ہیں یہ بوجھ اٹھانے کا ذمہ لینے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔میں تا کہ اگر وہ تیار نہ ہوں تو ہم یہ انعام دوسروں کو دے سکیں۔ابھی پنجاب کے کئی ضلعے باقی ہیں ہیں اور ابھی ہندوستان کے کئی علاقے باقی ہیں جن پر ہم یہ انعام تقسیم کر سکتے ہیں۔اسی طرح ہندوستان کے باہر کے علاقے باقی ہیں۔اور ابھی بعض افراد کے گروپ بھی باقی ہیں جو آسانی سے یہ بوجھ اپنے ذمہ لے سکتے ہیں۔اس لیے جن علاقوں کے میں نے نام لیے ہیں اُن پر کوئی جبر نہیں بلکہ اُن کی سہولت کے لیے نام لیے ہیں۔چاہیں تو یہ بوجھ اپنے ذمہ لے لیں اور نہ چاہیں تو معذوری ظاہر کر دیں۔ہم بغیر کسی شکوہ کے یہ بوجھ کسی اور علاقہ کے سپر د کر دیں (الفضل 8 نومبر 1944ء) گے"۔