خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 630 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 630

$1944 630 خطبات محمود اور بہرا ہو کسی دوسرے کی بات بھی نہ سن سکے۔ایسے ہی ترجمہ بھی اُس وقت تک بے کار ہے جب تک اُسے شائع نہ کیا جائے۔پس تراجم کی اشاعت میں حصہ لینے والے تراجم کرانے میں لینے والوں سے کم نہیں۔اُنہوں نے ترجمہ کروانے میں حصہ لے کر ثواب حاصل کیا، یہ اس ترجمہ کو چھپوا کر اس ثواب میں شامل ہو سکتے ہیں۔جنہوں نے تراجم میں حصہ لے لیا ہے اُنہوں نے اس لیے حصہ نہیں لیا کہ وہ دوسروں سے اخلاص میں زیادہ تھے بلکہ اِس لیے کہ قرب میں رہنے کی وجہ سے ان کو حصہ لینے کا پہلے موقع مل گیا۔ہماری شریعت کا فیصلہ ہے کہ جس کے اندر جوش اور اخلاص ہو خدا تعالیٰ اُس کو ثواب میں حصہ دے دیتا ہے۔مگر چونکہ ظاہر طور پر حصہ نہ لے سکنے کا دل کو صدمہ ہوتا ہے اس لیے میں نے ظاہر میں بھی موقع مہیا کر دیا ہے تاکہ مومنوں کے دلوں کو صدمہ نہ ہو اور وہ ظاہر و باطن میں ثواب اور کام میں شریک ہوں۔اور اسی غرض کے لیے میں نے ایک ایک ترجمہ قرآن کریم کی اشاعت اور ایک ایک کتاب کی اشاعت کا خرچ ان سات حصوں پر تقسیم کر دیا ہے۔ایک ترجمہ قرآن مجید اور ایک کتاب کی اشاعت کا خرچ سارے ہندوستان کی لجنہ اماء اللہ کے ذمہ لگایا ہے۔ایک ترجمہ قرآن مجید کی اشاعت اور ایک کتاب کی اشاعت کا خرچ قادیان کی جماعت کے ذمہ ڈالا ہے۔ایک ترجمہ قرآن مجید کی اشاعت اور ایک کتاب کی اشاعت کا خرچ لاہور ، امرتسر، شیخوپورہ، گوجر انوالہ اور فیروز پور کی جماعتوں پر ڈالا ہے۔ایک قرآن مجید کے ترجمہ کی اشاعت اور ایک کتاب کی اشاعت کا خرچ دہلی، بہار، یوپی اور ضلع لدھیانہ، ضلع انبالہ اور ریاست پٹیالہ کے ذمہ لگایا ہے۔ایک ترجمہ کی اشاعت اور ایک کتاب کی اشاعت کا بوجھ پہلے ہی کلکتہ کی جماعت نے اپنے ذمہ لے لیا ہوا ہے۔ایک ترجمہ قرآن مجید کی اشاعت اور ایک کتاب کی اشاعت کا بوجھ حیدر آباد دکن، میسور، بمبئی، مدراس اور اس کے ساتھ ملحقہ ریاستوں کے ذمہ لگایا ہے۔اور ایک ترجمہ قرآن مجید کی اشاعت اور ایک کتاب کی اشاعت کا بوجھ صوبہ سرحد اور صوبہ سندھ کی جماعتوں کے ذمہ لگایا ہے۔یہ سات تراجم قرآن کی اشاعت اور سات کتب کی اشاعت کا خرچ ہے۔مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ ذمہ داری اختیاری ہے جبری نہیں۔جو حلقہ اس بوجھ کو نہ اُٹھا سکے وہ اطلاع دے۔اُس کا حصہ