خطبات محمود (جلد 25) — Page 581
خطبات محمود 581 $1944 ہے اسلام بہت بُر امذ ہب ہے اور ہم اس لیے لڑتے تھے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نَعُوْذُ بِاللهِ اچھے آدمی نہیں تھے۔پس جو چیز اُن کی زبانوں اور اُن کے قلموں سے نکلتی۔اُس کا موجب اُن کے دلی خیالات ہوتے ہیں۔اگر ان خیالات کی اصلاح کر دی جائے، اگر اُن کے کے سامنے اسلام کی صحیح تصویر پیش کی جائے اور اگر اُن کی غلط فہمیوں کو دور کیا جائے تو ان کی زبان بھی اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف کرنے لگ جائے اور اُن کے قلم بھی اسی کام میں مشغول ہو جائیں۔یہی حال حکومتوں کا ہوتا ہے اگر ان کے بغض اور ان کے کینہ کو دور کرنے کی ہے کوشش نہ کی جائے بلکہ انہیں سختی سے دبا کر رکھا جائے ، اُن کے حقوق کو تلف کر دیا جائے، اُن کی ترقی کے مواقع کو مسدود کر دیا جائے اور اُن کے ساتھ ذلت آمیز سلوک روا رکھا جائے تو اُن کے دلوں میں یہ احساس پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے کہ یہ غالب اقوام موقع پاکر بڑھ گئی ہیں اب یہ نہیں چاہتیں کہ کوئی دوسری قوم ان سے بڑھ سکے۔یہ احساس ہے جو اس دباؤ کے می نتیجہ میں لازمی طور پر پیدا ہوتا ہے۔تم اس احساس کو غلط کہو یا صحیح بہر حال جب تک یہ احساس موجو د رہے گا، جب تک مغلوب اقوام کے دلوں میں یہ خیال رہے گا کہ بڑھنے والی قومیں یہ نہیں چاہتیں کہ روس کی جگہ جرمنی لے لے یا انگلستان کی جگہ جاپان لے لے اور یہ ہمیشہ دوسروں کو دبا کر اُن پر تسلط اور غلبہ قائم رکھنا چاہتی ہیں اُس وقت تک ہر وہ تجویز جو امن کے می قیام کے لیے کی جائے گی ناکام ثابت ہو گی، ہر کوشش رائیگاں جائے گی، ہر تدبیر بے اثر رہے گی۔اور یہ خیال مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جائے گا کہ ہماری کمزوری سے ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور ہمیں آگے بڑھنے سے محض اس لیے روکا جاتا ہے کہ اس دور میں بعض اور قومیں آگے نکل چکی ہیں۔چنانچہ جب بھی غالب اقوام کی طرف سے یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ جنگ کے بعد ہم فیصلہ کریں گی کہ کس قوم کے کیا حقوق ہیں، ہم فیصلہ کریں گی کہ ان کو کیا کیا مراعات مانی چائیں اور ہم اس امر کی نگرانی رکھیں گی کہ ان کے جائز مطالبات پامال نہ ہوں۔تو می دوسرے الفاظ میں اس قسم کے اعلان کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ ہم مائی باپ ہیں، ہم تمہارے حاکم ہوں گے۔اور تم ہمارے محکوم ہو گے اور یہ وہ بات ہے جس کو دنیا کی کوئی آزاد قوم ہے