خطبات محمود (جلد 25) — Page 580
خطبات مج محمود 580 $1944 اگر انسان دوسرے کے زخم کو دور کرنے کے بغیر یا اُس پر مرہم کا پھایا لگانے کے بغیر اس کی آہوں کو دبانا چاہے یا ایک پاگل اور مجنون شخص کی گالیوں کو روکنا چاہے تو وہ آہیں اور وہ گالیاں کس طرح رُک سکتی ہیں۔وہ آہیں پھر نکلیں گی، پھر نکلیں گی اور پھر نکلیں گی۔اسی طرح اگر بغیر جنون کا علاج کرنے کے کوئی شخص ایک مجنون اور پاگل کی گالیوں سے بچنا چاہے تو وہ بچ نہیں سکتا۔ضرور ہے کہ اس کو گالیاں ملیں اور ضرور ہے کہ وود کھ اٹھائے کیونکہ جنون ہے کی موجودگی میں گالیوں کا ملنا ضروری ہے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا کہ امہات المومنین" کو ضبط کرانا اصل علاج نہیں ہے۔بلکہ اصل علاج یہ ہے کہ اُن طریقوں کو اختیار کیا جائے جن پر چل کر اس قسم کی لڑائیاں دور ہو سکتی ہیں۔اور وہ طریق یہی ہے ہے کہ جو مذ ہب سچا ہے اس کو دنیا میں زیادہ سے زیادہ پھیلایا جائے۔لوگوں کو دوسرے مذہب ہے کے خلاف اسی لیے غصہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ سنجیدگی سے غور کرنے کے عادی نہیں ہوتے۔اگر بار بار اُن کے سامنے ایک سچائی کو پیش کیا جائے اور انہیں کہا جائے کہ اگر تمہارے مذہب میں بھی ایسی ہی سچائی پائی جاتی ہے تو اُس کو پیش کرو تو وہ اس بات پر مجبور ہوتے ہیں کہ بچے مذہب کو اختیار کریں۔اور یا پھر دوسری صورت ان مذہبی جھگڑوں کے انسداد کی یہ ہو سکتی ہے ہے کہ ہر مذہب کا پیر و صرف اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے، دوسروں پر حملہ کرنا اور اُن کی عیب چینی میں مشغول رہنا ترک کر دیا جائے۔جب یہ طریق اختیار کیا جائے گا تو اس کے نتیجہ میں اسلام کو فتح حاصل ہو گی۔کیونکہ جب وہ اسلام کی خوبیاں دیکھ لیں گے اور جب وہ اپنے مذاہب کو ان خوبیوں سے بالکل خالی پائیں گے تو ان کے دل اسلام کی صداقت پر مطمئن ہو جائیں گے اور وہ سمجھ جائیں گے کہ ان کی مخالفت کرنا صحیح نہیں۔ہم دیکھتے ہیں عیسائیوں اور ہندؤوں وغیرہ کے مجمع میں جب اسلام کی خوبیاں بیان کی جاتی ہیں، جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فضائل بیان کیے جاتے ہیں، جب قرآن کریم کی خوبیاں پیش کی جاتی ہیں تو تین بعد میں کئی ہندو اور عیسائی یہ کہتے سئے جاتے ہیں کہ ہمیں پتہ نہیں تھا اسلام ایسا اچھا مذہب ہے، ہمیں پتہ نہیں تھا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں یہ یہ کمالات پائے جاتے ہیں۔جس کے دوسرے معنے یہ ہوتے ہیں کہ ہم اس لیے گالیاں دیتے تھے کہ ہم سمجھتے تھے