خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 582 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 582

$1944 582 خطبات محمود برداشت نہیں کر سکتی۔پس جو باتیں اس وقت علاج کے طور پر پیش کی جا رہی ہیں وہ دنیا کے بغض اور اس کے کینہ کو اور بھی بڑھانے والی ہیں۔جس وقت اتحادیوں کی طرف سے یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ ہم اس امر کی نگرانی رکھیں گے کہ چھوٹی چھوٹی قوموں کے حقوق کو کوئی اور قوم تلف نہ کرے تو وہ حقارت کی ہنسی ہنستی ہیں کیونکہ وہ الا ئنز (Alliance) کے ماتحت نہیں ہیں۔وہ قومیں اپنے آپ کو آزاد سمجھتی ہیں اور وہ اس قسم کے اعلان کا سوائے اس کے اور کوئی مفہوم نہیں سمجھتیں کہ دنیا میں غالب اقوام کی طرف سے یہ اعلان کیا جارہا ہے کہ آئندہ ہم اتالیق ہوں گی اور تم ہماری زیر نگرانی رہنے والے شاگرد ہو گے اور یہ ایک ایسی بات ہے جو فتنہ وفساد کی آگ کو اور بھی بھڑ کانے والی ہے۔پس یہ علاج جو آج تجویز کیا جا رہا ہے خطرات کو بڑھانے والا اور فتنہ و فساد کی آگ کو اور بھی ہوا دینے والا ہے۔جب تک لوگوں کے دلوں میں غیرت باقی ہے، جب تک لوگوں کے دلوں میں حُب الوطنی کا جذبہ باقی ہے، جب تک لوگوں کے دلوں میں انسانی شرافت کا احساس باقی ہے۔اُس وقت تک بنی نوع انسان لازمی طور پر کسی ایسے نظام میں جکڑا جانا پسند نہیں کر سکتے جس نظام کو وہ اپنی خوشی اور مرضی سے اپنے لیے قبول کرنے کے تیار نہ ہوں۔یہ ایک صاف اور سیدھی بات ہے اور انسانی فطرت کے اس جذبہ سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔چاہے کوئی عیسائی ہو، ہندو ہو ، سکھ ہو ، کوئی ہو، کسی مخالف سے مخالف کے سامنے بھی یہ بات بیان کی جائے تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ وہ اِس کو ماننے سے انکار کر سکے کہ انسان اُسی نظام پر تسلی پاتا ہے جس نظام کو اس نے خود چتا ہو یا جس کے پچھنے میں اس کا ہاتھ ہو۔دنیوی میں باتوں کو جانے دو نماز جو ایک شرعی فرض ہے اسی کے متعلق میں نے خود بعض لوگوں کی زبان سے یہ فقرہ سنا ہے کہ جب اُن سے کہا گیا کہ آؤ اور نماز پڑھ لو تو انہوں نے اس غصہ میں کہ یہ کون ہیں نماز کی تحریک کرنے والے۔یہاں تک کہہ دیا کہ جاؤ ہم نماز نہیں پڑھتے۔نماز پڑھنی ہے ہوگی تو ہم خود پڑھ لیں گے تم کون ہو جو ہماری نمازوں میں دخل دیتے ہو۔اب دیکھو! نماز ہے ایک ایسا فرض ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر کیا گیا ہے مگر جب اس فرض کی طرف بعض لوگوں کو توجہ دلائی جاتی ہے تو محض توجہ دلانے پر ہی وہ بگڑ جاتے ہیں اور کجھتے ہیں کہ ہم